http://teaching urdu.blogspot.com/ Urdu, waris, Urdu teaching, teaching urdu,Creativity,Urdu Teachers, Think, Language Urdu,Waris Iqbla, Urdu Blog for Urdu teachers,Urdu Teaching, Urdu Teaching Tips, Urdu with ICTاردو، اردو تدریس، وارث اقبال، پاکستان میں اردو تدریس، اردو . Teaching Urdu Language
http://teaching urdu.blogspot.com/ Urdu, waris, Urdu teaching, teaching urdu,Creativity,Urdu Teachers, Think, Language Urdu,Waris Iqbla, Urdu Blog for Urdu teachers,Urdu Teaching, Urdu Teaching Tips, Urdu with ICTاردو، اردو تدریس، وارث اقبال، پاکستان میں اردو تدریس، اردو . Teaching Urdu Language
Sunday, February 21, 2021
Sunday, January 26, 2020
Monday, October 22, 2018
پاکستان کے چند خوبصورت اور حسین پرندے
پاکستان
کے چند خوبصورت اور حسین پرندے
پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے اتنی
خوبصورتی سے نواز رکھا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتا- پاکستان کے ساحلوں اور
دیگر علاقوں میں متعدد ایسے حسین اور دلکش پرندے پائے جاتے ہیں جو دنیا بھر میں یا
تو نایاب ہیں یا پھر وہاں ان کی نسلیں معدومی (ختم ہونے کو ) کا شکار ہورہی ہیں- ایسے ہی چند رنگا رنگ اور خوبصورت پرندوں کا ذکر
ہے ہمارے آج کے اس آرٹیکل میں-
پاکستان کو ان جادوئی پرندوں کا گھر
بھی قرار دیا جاسکتا ہے-
شاہین Shaheen Falcon
شاہین کسی تعارف کا محتاج نہیں- یہ
ایسا پرندہ ہے جو ہجرت نہیں کرتا اور ہمارے ملک پاکستان کے ساحلوں پر پایا جاتا ہے-
یہ ایک شکاری پرندہ ہے اور اس کے پنجے انتہائی طاقتور اور تیز ہوتے ہیں جس کی مدد
سے یہ اپنا شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے-
کیمزن سن برڈ Crimson Sunbird
یہ خوبصورت پرندہ صرف پاکستان میں ہی
نہیں پورے برصغیر ہندوستان میں پایا جاتا ہے- یہ پرندہ مختلف پرکشش رنگوں میں ہوتا
ہے اور پھولوں کے اردگرد پایا جاتا ہے-
سلیٹی سر والی پیلے رنگ کی چڑیاGrey-Hooded Warbler
یہ پرندہ پاکستان کے جنگلات یا اس سے ملحقہ علاقوں میں پایا جاتا ہے- یہ پرندہ اپنی منفرد چہجاہٹ کی وجہ سے مشہور ہے- لیکن یہ انتہائی چھوٹا اور تیز رفتار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے پکڑنا آسان نہیں-
یہ پرندہ پاکستان کے جنگلات یا اس سے ملحقہ علاقوں میں پایا جاتا ہے- یہ پرندہ اپنی منفرد چہجاہٹ کی وجہ سے مشہور ہے- لیکن یہ انتہائی چھوٹا اور تیز رفتار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے پکڑنا آسان نہیں-
Red Billed Leiothrix لال چونچ والی
چڑیا
یہ دلچسپ پرندہ اکثر پنجروں میں قید ہی دکھائی دیتا ہے اور یہ ایک مقبول ترین پالتو پرندہ ہے- اس ایک پرندے کے اوپر بہت سے خوبصورت رنگ دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ یہ پرندے 6 انج تک کے سائز کے پائے جاتے ہیں-
یہ دلچسپ پرندہ اکثر پنجروں میں قید ہی دکھائی دیتا ہے اور یہ ایک مقبول ترین پالتو پرندہ ہے- اس ایک پرندے کے اوپر بہت سے خوبصورت رنگ دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ یہ پرندے 6 انج تک کے سائز کے پائے جاتے ہیں-
Red Collared Doveگلابی فاختہ
یہ دلکش پرندہ پنجاب میں دکھائی دیتا
ہے جہاں یہ اپنا موسمِ گرما گزارتا ہے- اس کے حیرت انگیز رنگوں کی وجہ سے اسے
روشنی میں پکڑنا کسی حد تک دشوار ثابت ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک
حیرت انگیز
پرندہ ہے-
مونال سرخاب Monal Pheasant
یہ چمکدار رنگوں کا حامل حسین پرندہ
شمالی پاکستان کے ہمالیہ سے تعلق رکھنے والے خطوں میں پایا جاتا ہے- یہ اپنے جسم
پر موجود انگنت چمکدار رنگوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اسے تمام
پرندوں میں ایک نمایاں حیثیت بھی حاصل ہے-
Khalij Pheasant
خھالجی سرخاب
یہ پرندہ بھی گزشتہ پرندے کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور شمال میں ہمالیہ کی چوٹیوں پر پایا جاتا ہے- تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ خوبصورت پرندہ اب اپنے خاتمے کے قریب ہے اور ان کی تعداد
یہ پرندہ بھی گزشتہ پرندے کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور شمال میں ہمالیہ کی چوٹیوں پر پایا جاتا ہے- تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ خوبصورت پرندہ اب اپنے خاتمے کے قریب ہے اور ان کی تعداد
بہت تھوڑی رہ گئی ہے-
Coppersmith Barbet کوپر
سمتھ
یہ پرندہ بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں پایا جاتا ہے اور اس کی پسندیدہ غذا پھل ہیں- اس کی ٹک ٹک کی آواز کسی حد تک پریشان کن ہوتی ہے لیکن اس کی خوبصورتی سے کسی صورت انکار ممکن نہیں
یہ پرندہ بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں پایا جاتا ہے اور اس کی پسندیدہ غذا پھل ہیں- اس کی ٹک ٹک کی آواز کسی حد تک پریشان کن ہوتی ہے لیکن اس کی خوبصورتی سے کسی صورت انکار ممکن نہیں
روڈی
بطخ یا مرغاب
Ruddy Shelduck
اس بطخ کا تعلق افریقہ سے ہے لیکن موسمِ سرما میں یہ ہجرت کر کے پاکستان آجاتی ہے جہاں یہ
اس بطخ کا تعلق افریقہ سے ہے لیکن موسمِ سرما میں یہ ہجرت کر کے پاکستان آجاتی ہے جہاں یہ
انڈے بھی دیتی ہے- ہجرت کے دوران ان پرندوں کو جھنڈ کی صورت میں دیکھا
جاسکتا ہے-
Long-tailed Minivet
یہ پرندہ اپنی لمبی دم کی وجہ سے مقبول ہے- ان پرندوں میں نر پرندہ نارنجی اور کالے رنگ کا ہوتا ہے جبکہ مادہ کا رنگ پیلا اور کالا ہوتا ہے-
یہ پرندہ اپنی لمبی دم کی وجہ سے مقبول ہے- ان پرندوں میں نر پرندہ نارنجی اور کالے رنگ کا ہوتا ہے جبکہ مادہ کا رنگ پیلا اور کالا ہوتا ہے-
درجِ بالا مواد جماعت میں تدریس
کی غرض سے درج ذیل ویب سائیٹ سے لیا گیا۔
http://hamariweb.com/articles/77636
ہندوستانی مور یا طاوس ہندی (Indian peafowl) (سائنسی نام: Pavo cristatus) ایک بڑا اور چمکیلا رنگدارپرندہ ہے جو مور کی نسل سے ہے۔
ضلع اسلام آباد میں پرندوں کو تقریبا 76 کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں۔
سرخاب کا شمار دنیا کے
خوبصورت ترین پرندوں میں ہوتا ہے۔ دنیا میں بھر میں سرخاب کی مختلف قسمیں پائی
جاتی ہے۔ جس میں سنہرا سرخاب، عام سرخاب، اور پٹے دار سرخاب بہت مشہور ہیں۔
سرخاب پاکستان کے کھیتوں اور کھلیانوں میں بکثرت پایاجاتا ہے۔ رات میں اونچے درختوں پر بسیرا کرتا ہے اور دن بھر کھیتوں اور جھاڑیوں میں اپنی خوراک تلاش کرتا ہے ۔نر سرخاب مادہ کے مقابلے زیادہ خوبصورت اوردلکش ہوتا ہے۔ سنہرے سرخاب کی وجہ شہرت سنہرے بالوں کی چوٹی کی ہے جو سرخاب کے سر سے لے کر گردن کے پچھلے حصّے تک ہوتے ہیں۔ زردی مائل بھورے رنگ کی دم سرخاب کی خوبصورتی اور لمبائی میں اضافہ کرتی ہے۔ سرخاب کے پر اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اردو زبان میں بھی سرخاب کے پروں کو تشبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔سرخاب کی پسندیدہ خوراک دانہ ، اناج، سنڈی اور کیڑے مکوڑے ہیں۔اگر آپ سرخاب کو دیکھنا چاہیں تو اسکے لیے بہترین وقت صبح کا ہے جب یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سرخاب پاکستان کے کھیتوں اور کھلیانوں میں بکثرت پایاجاتا ہے۔ رات میں اونچے درختوں پر بسیرا کرتا ہے اور دن بھر کھیتوں اور جھاڑیوں میں اپنی خوراک تلاش کرتا ہے ۔نر سرخاب مادہ کے مقابلے زیادہ خوبصورت اوردلکش ہوتا ہے۔ سنہرے سرخاب کی وجہ شہرت سنہرے بالوں کی چوٹی کی ہے جو سرخاب کے سر سے لے کر گردن کے پچھلے حصّے تک ہوتے ہیں۔ زردی مائل بھورے رنگ کی دم سرخاب کی خوبصورتی اور لمبائی میں اضافہ کرتی ہے۔ سرخاب کے پر اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اردو زبان میں بھی سرخاب کے پروں کو تشبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔سرخاب کی پسندیدہ خوراک دانہ ، اناج، سنڈی اور کیڑے مکوڑے ہیں۔اگر آپ سرخاب کو دیکھنا چاہیں تو اسکے لیے بہترین وقت صبح کا ہے جب یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
چکور کو Chukar Partridge بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا
ہے کہ یوریشیاء میں چکور کو گیمس میں استعمال کیا جاتا ہے اور اسے وہاں کے کسان
پالتے ہیں۔ اُردو میں چکور کہتے ہیں۔ یہ خوبصورت برڈ پاکستان کا قومی پرندہ ہے۔
چکور کا پہلو سفید اور سیاہ خوبصورت پروں سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس پرندہ کے سر کے نیچے
آنکھوں کے ساتھ ایک بالوں کی سیاہ پٹی رہتی ہے جو گردن، گلے کا احاطہ کرتے ہوئے
دوسری جانب کی آنکھ سے جاملتی ہے۔ اس کی چونچ سرخ، چھوٹی اور مضبوط ہوتی ہے جب کہ
اس کے پیروں کا رنگ بھی گاجر کے کلر کی طرح ہوتا ہے۔ یہ پرندہ ہندوستان،
افغانستان، مشرق وسطیٰ، امریکہ، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔
چکور پاکستان کے ساتھ کردستان کا بھی قومی پرندہ ہے۔ اسکی لمبائی کم و بیش 32 تا 35 سنٹی میٹر ہوتی ہے۔ اس کا چہرہ سفید بالوں سے ڈھکا رہتا ہے جب کہ اس کے اطراف سیاہ دھاری پٹی ہوتی ہے۔ نر اور مادّہ چکور کا سائز تقریباً مساوی ہوتا ہے، مگر مادہ کسی قدر نر سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی دُم میں 14 کے قریب پَر ہوتے ہیں۔ چک، چک، چک چکور کی آواز نکالتا ہے۔ اس لئے اس پرندہ کا نام چکور رکھا گیا
چکور پاکستان کے ساتھ کردستان کا بھی قومی پرندہ ہے۔ اسکی لمبائی کم و بیش 32 تا 35 سنٹی میٹر ہوتی ہے۔ اس کا چہرہ سفید بالوں سے ڈھکا رہتا ہے جب کہ اس کے اطراف سیاہ دھاری پٹی ہوتی ہے۔ نر اور مادّہ چکور کا سائز تقریباً مساوی ہوتا ہے، مگر مادہ کسی قدر نر سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی دُم میں 14 کے قریب پَر ہوتے ہیں۔ چک، چک، چک چکور کی آواز نکالتا ہے۔ اس لئے اس پرندہ کا نام چکور رکھا گیا
ہے۔ تیتر کے خاندان سے
تعلق رکھنے والے اس پرندہ کا اصل وطن ایشیاء بتایا جاتا ہے۔ غیر قانونی شکار سے اس
پرندہ کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بریڈنگ سیزن میں غیر
موزوں موسم بھی اس کی نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ نان بریڈنگ سیزن میں 10 تا
15 پرندے جھنڈ کی شکل میں رہتے ہیں۔ سرما کے موسم میں یہ پرندے وادیوں کا رُخ کرتے
ہیں جہاں انھیں کھانے کے لئے کثیر تعداد میں اناج مل جاتا ہے۔ یہ پرندے دن میں
بالخصوص صبح اور شام کے وقت مخصوص آواز ’چکور‘ نکالتے ہیں۔ موسم سرما میں جو ان کا
بریڈنگ سیزن ہوتا ہے، نر اناج چنتا ہے۔ یہ دیکھ کر مادّہ بھی اس کے قریب آجاتی ہے
اور اس کی مدد کرنے لگتی ہیں۔ نر اور مادّہ ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ چکور گہری پہاڑی
کھائی، درختوں یا ایسے مقامات جو بڑی چٹانوں سے ڈھکے ہوں، وہاں گھونسلے بناتے ہیں۔
یہ ایک وقت میں 7 تا 14 انڈے دیتے ہیں۔ 23 تا 25 دنوں کے بعد انڈوں سے بچے نکل آتے
ہیں۔ چکور اناج کے ساتھ کیڑے مکوڑے بھی کھاجاتے ہیں۔ چکور کے بچے کیڑے مکوڑے کھاتے
ہیں، لیکن جب وہ بڑے ہوجائیں گے، تب وہ مختلف اقسام کے اناج، گھاس اور پتے بھی
کھانے لگیں گے۔ ان پرندوں میں یہ خاص بات دیکھی گئی ہے کہ یہ صبح اور دوپہر میں ہی
دانا چگتے ہیں۔
Wednesday, March 1, 2017
Penguin
پینگوئن
آ
بی پرندوں میں پینگوئن کو ایک نمایاں مقام
حاصل ہے ۔ زمین کا جنوبی حصہ ان کا
اصل گھرہے ۔ پرندوں میں پینگوئن کو مہذب پرندہ کہا جاتا ہے ۔ ان کی ۱۷ مختلف اقسام
ہیں ۔ پینگوئن صرف نام کا ہی پرندہ ہے کیوں کہ یہ اُڑ نہیں سکتا ۔ اس کے پروں کی
جگہ ہاتھ ہوتے ہیں جو
اسے آگےبڑھنے میں مدد
دیتے ہیں ۔ ۔ پینگوئن ایک ایسا
آ بی پرندہ ہے جو
سال میں چھ مہینے سمندر میں رہتا ہے ۔ پینگوئن زبردست تیراک ہے وہ اپنی گردن ، پیروں اور
بازوؤں کی مدد سے اتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے کہ ایک گھنٹے میں پندرہ میل
کا فاصلہ طے کر لیتا ہے۔ پینگوئن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ ایک
بہترین غوطہ خور بھی ہے ۔ یہ سمندر میں ا
یک ہزار فٹ کی گہرائی تک جا سکتا ہے اور آ بدوز کی طرح پانی کے اندر ہی اندر تیر بھی
سکتا ہے ۔ سانس لینے کےلئے یہ اپنے مضبوط بازوؤں
کے ذریعے پانی سے باہر نکلتا ہے اور اسی
رفتار سے دوبارہ پانی
میں چلا جاتا ہے ۔
پینگوئن
سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے ، ۔ یہ پرندے
عموما ًبرف پگھلنے کے موسم میں کثیر تعداد
میں ان علاقوں میں نظر آتے ہیں ۔ پینگوئن
سمندر میں تیر بھی سکتے ہیں اورخشکی پر ہوں تو سیدھے کھڑے ہو کر
چلتے ہیں ۔ یہ بہت سیدھے سادے اور جلد مانوس
ہو جانے والے پرندے ہیں۔ پینگوئن غول
کی صورت میں اکھٹے رہتے ہیں پینگوئن زیادہ
تر سمندر کے کنارے
رہتے ہیں البتہ
بچے دینے کے لئے خشکی کا رُخ بھی کرتے ہیں ۔ خشکی
پر یہ مختلف گھونسلے بنا کر
انڈےدیتے ہیں ۔ ماحولیاتی آلودگی کے باعث وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی تعداد میں خاصی کمی آ رہی ہے ۔
ہر گزرتے سال کے ساتھ ان کی آبادی
بیس فیصد گھٹ رہی ہے ۔۔ پانی کےدوسرے
پرندوں کی نسبت ان کی عُمریں لمبی
ہوتی ہیں ۔زرد رنگ والے پینگوئن کی عمر ۲۰ سال سے زیادہ ہوتی ہے۔
جب پینگوئن
مائیں سمندر میں مچھلیوں کی تلاش میں نکلتی ہیں تو اپنے بچوں
کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں ۔ یہ
سب بچے ایک ہی جگہ اکھٹے ہو جاتے ہیں ۔ جب ان کی مائیں واپس
آتی ہیں اور بھوکے بچوں کے
ہجوم میں سے گزرتی ہیں
تو وہ صرف اپنے
بچوں کو ہی خوراک دیتی ہیں ،کسی
دوسرے کے بچوں کو نہیں ۔ سائنس دانوں
کے مطابق پینگوئن آواز اور شکل
صورت سے بھی اپنے بچے کو پہچان لیتی
ہے۔
آپ جانتے ہیں کہ بھیڑوں کے گلوں
میں سینکڑوں بچے ہوتے ہیں اور ان سب کی
شکل صورت ایک جیسی ہوتی ہے ۔ ہمارے لیے ان بچوں کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے لیکن بھیڑیں فورا اپنے بچوں کو پہچان لیتی
ہیں بھلا کیسے۔۔۔۔۔۔؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر بچے کی ایک خاص بو ہوتی ہے ۔ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بھیڑ اسے سونگھتی
ہے ۔ اس کی بو کو یاد رکھتی ہے اور پھر اس بو کے ذریعے اپنے بچے کی پہچان کرتی ہے ۔ مادہ پینگوئن بھی
اسی طرح اپنے بچوں کو فورا پہچان
لیتی ہے ۔ جب پینگوئن مائیں سمندر میں مچھلیوں کی تلاش میں نکلتی
ہیں تو اپنے بچوں کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں ۔ یہ سب
بچے ایک ہی جگہ اکھٹے ہو جاتے ہیں ۔ جب ان کی مائیں واپس
آتی ہیں اور بھوکے بچوں کے
ہجوم میں سے گزرتی ہیں
تو وہ صرف اپنے
بچوں کو ہی خوراک دیتی ہیں ،کسی
دوسرے کے بچوں کو نہیں ۔ سائنس دانوں
کے مطابق پینگوئن آواز اور شکل
صورت سے بھی اپنے بچے کو پہچان لیتی
ہے۔
برفانی علاقوں میں پائے جانے والے
اس خوب صورت پرندے کے بارے میں ایک
انتہائی دلچسپ بات مشہور ہے کہ ایک پینگوئن باپ مسلسل ساٹھ دن یا اس سے بھی زیادہ
ایک ہی جگہ پرکھڑا رہتا ہے۔اس دوران وہ برفیلی ہواؤں
کا مقابلہ کرتا رہتا ہے اس دوران
نہ کچھ کھاتا پیتا ہے اور نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہے ، ہے نادلچسپ بات کہ آخر
وہ اتنی مشقت کیوں اٹھاتا ہے تو اس
کا جواب یہ ہے کہ جب پینگوئن
مادہ انڈے دیتی ہے تو اس کے فوری بعد
پینگوئن باپ ان انڈوں کے پاس آ
جاتا ہے اور انہیں ڈھانپ لیتا ہے تا کہ انڈوں کو حدّت پہنچے اور ان سے بچے نکل آئیں ۔ مسلسل ساٹھ دن سے زیادہ بھوکا پیاسا
رہنے سے پینگوئن باپ کا وزن
تقریباً پچیس پاؤنڈ تک کم ہو جاتا ہے
۔ جب ان انڈوں سے ننھے ننھے بے بی پینگوئن
نکل آتے ہیں تو ان کے باپ اپنے گلے
سے جمع شدہ ایک
خاص قسم کی غذا نکالتے ہیں اور اس
سے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں ۔ اس کے بعد پینگوئن ماں ان بچوں کی دیکھ بھال کے
لیے آ جاتی ہے اور یوں اتنے لمبے عرصے کے
بعد پینگوئن باپ کو چھٹی ملتی ہے ۔
۱۹۸۳ ء میں تیل لے کر جانے والے
دو سمندری جہاز ڈوب جانے سے
رسنے والا تیل پینگوئن کے
لیے موت کا پیغام لے کر آیا ۔
اس تیل میں ڈوبنے سے لاکھوں پینگوئن ہلاک ہو گئے ۔
ماحولیات کے ماہرین نےجب پینگوئن کی نسل کو ختم ہوتے دیکھا تو وہ ہزاروں کی تعداد میں پنگوئن محفوظ مقام پر
لے گئے جہاں ان کی دیکھ بھال کی گئی اور
جب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے
تو ا نہیں ان کے ٹھکانوں پر واپس پہنچا دیا گیا۔ پینگوئن
کا اصل وطن انٹارکٹیکا ہے ۔
انٹارکٹیکا ایک سرد اور برفیلا
علاقہ ہے ۔ وہاں پر برف ہی برف ہوتی ہے اور اسی وجہ سے وہاں زندگی گزارنا مشکل ہے
لیکن قدرت نے پینگوئن کو ان مشکل حالات میں جینے کا ہنر سکھا دیا ہے ۔پینگوئن پانی سے برف پر آنے کے لیے ایک لمبی
چھلانگ لگاتا ہے ۔ اس کے
طاقتور بازو اس کی مدد کرتے ہیں اور وہ کسی راکٹ کی طرح
برف پر آن اترتا ہے ۔ عام طور پر
اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پینگوئن پانی کی نسبت برف اور خشکی پر سست رفتاری سے چلتا ہے لیکن جب وہ دوڑنا شروع کر دے
تو اچھا خاصا بھاگ سکتا ہے۔
Saturday, February 11, 2017
Subscribe to:
Posts (Atom)
فیض احمد فیض نے رومانوی شاعری کو نیا انداز دیا ہے۔ فیض احمد فیض نے اردو رومانوی شاعری کو ایک ایسی نئی جہت اور انداز دیا جس کی مثال ا...
-
پاکستان کے چند خوبصورت اور حسین پرندے پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے اتنی خوبصورتی سے نواز رکھا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتا- پاکستان...




























