http://teaching urdu.blogspot.com/ Urdu, waris, Urdu teaching, teaching urdu,Creativity,Urdu Teachers, Think, Language Urdu,Waris Iqbla, Urdu Blog for Urdu teachers,Urdu Teaching, Urdu Teaching Tips, Urdu with ICTاردو، اردو تدریس، وارث اقبال، پاکستان میں اردو تدریس، اردو . Teaching Urdu Language
http://teaching urdu.blogspot.com/ Urdu, waris, Urdu teaching, teaching urdu,Creativity,Urdu Teachers, Think, Language Urdu,Waris Iqbla, Urdu Blog for Urdu teachers,Urdu Teaching, Urdu Teaching Tips, Urdu with ICTاردو، اردو تدریس، وارث اقبال، پاکستان میں اردو تدریس، اردو . Teaching Urdu Language
Tuesday, December 27, 2016
Teaching Urdu : سفر نامہ پریوں کی تلاش کی دوسری قسط
Teaching Urdu : سفر نامہ پریوں کی تلاش کی دوسری قسط: ہمارا پہلا عارضی پڑاؤپنڈی بھٹیاں جا کر پڑا۔ جونہی ہم گاڑی سے باہر آئے تو ہمیں موسم ِ گرما کی محبتوں کا اندازہ ہوگیا۔ کیا خوبصورت ا...
سفر نامہ پریوں کی تلاش کی دوسری قسط
ہمارا پہلا عارضی پڑاؤپنڈی بھٹیاں جا کر پڑا۔ جونہی ہم
گاڑی سے باہر آئے تو ہمیں موسم ِ گرما کی محبتوں کا اندازہ ہوگیا۔ کیا خوبصورت اور خوب سیرت گرمی تھی ۔ کسی ظالم
حسینہ کی طرح ہر کسی پر ٹوٹ ٹوٹ پڑ رہی تھی۔انٹر چینج کا جائے طعام وقیام دھوپ
نے جھلسا کر رکھ دیا تھا۔ ہر چہرہ مرجھایا اور کملایا ہوا تھا۔ ہم نے باہر بیٹھنے کی بجائے ریسٹوران کے
اندر جانے کا فیصلہ کیا۔ اندر بہت سکون
تھا،اے سی نے موسم بھی خوشگوار بنائے رکھا تھا اورصرف ہم ہی ہم تھے۔ اس لئے
ویٹرز نے اپنی ساری توانائیاں ہماری خدمت میں صرف کر دیں۔ ہم نے اپنی اپنی مرضی کی
ضروریات بتائیں اور اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔ میرے پیچھے درواز ہ تھا اور سامنے
ریستوران کا استقبالیہ ڈیسک۔ جہاں دو لڑکے چابکدستی سے ہمارے لئے اشیائے خو ر و
نوش تیار کر رہے تھے۔ انہیں تکتے رہنا مجھے کچھ مناسب نہ لگا۔ لہذا میں کرسی کو
پیچھے موڑ کر دروازے کی طرف منہ کر کے بیٹھ گیا۔ جہاں سے انٹرچینج کی پارکنگ پٹرول
پمپ اور اس کے پیچھے موٹر وے کا ایک حصہ دکھائی دے رہا تھا۔ یہاں بیٹھے ہوئے یوں
لگ رہا تھا جیسے باہر کا ہر منظر سورج کی حشر سامانی سے محفوظ ہے لیکن اندر کی
کہانی اور تھی اور باہر کی اور۔
میری نظریں سڑک پر چلنے والے ٹریفک پر جمی ہوئی تھیں اور دماغ اپنے نہاں
خانوں میں سے کچھ تلاش کرنے میں مگن تھا۔ وہ کچھ اوراق کو رد کرتے ہوئے اورکچھ کو قبول
کرتے ہوئے اپنے فعال حصے پر منتقل کر رہا تھا۔
کچھ ہی لمحوں میں یہ عمل تیز ہوگیا۔ اب تصویروں سے سجی
تاریخ کے اوراق سیلابی پانی میں پتوں کی طرح بہے چلے آرہے تھے۔ داستانیں، کہانیاں،
ہیروز، دشمن، شہزادے شہزادیا ں اور لہلہاتے کھیتوں کو روندتے،پاگلوں کی طرح بھاگے
پھرتے بیرونی افواج کے لشکر درلشکر۔
ہائے
میری دھرتی! ہمیشہ بیرونی لشکروں کے لئے
کھیل کا میدان بنی رہی۔ اگر اْن کے راستہ میں کوئی بچہ آ گیاتو زندگی ہار گیا، اگر
کوئی عورت آ گئی تو حیوانیت کا شکار ہو گئی اور اگر کوئی مرد تو درندگی کی نئی
تاریخ رقم ہوگئی۔
ایک
نہیں دو نہیں، لشکروں کے لشکر اپنی اغراض کے لئے اس زمین کو روندتے رہے، لوٹتے ر
ہے اور بنبھوڑتے رہے۔یہاں کے لوگ آئے دن بیرونی حکومتوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند
کر کے اپنے ہونے کا احسا س دلاتے رہتے۔ بیرونی حملہ آور خود تو چلے جاتے لیکن اپنے
امیر کے نام پر ایک اور مصیبت یہاں چھوڑ جاتے اور پھر یہاں ایک اور ہی سلسلہ شروع
ہو جاتا ،کبھی یہ علاقہ کسی کی امارت کا حصہ بن جاتااور کبھی کسی کی جاگیر۔ ہر
فاتح اسے ناصرف لوٹتابلکہ وہاں
سازشوں کا جال بھی پھیلا دیتا۔
سلطنتِ دہلی پر اکبرِ اعظم کی قیادت میں مغل اپنی حکومت
کو مضبوط سے مضبوط تربنانے میں جتے ہوئے
تھے۔ دریائے راوی اور دریائے چناب کے درمیان سرسبز اور زرخیز زمینوں کے مالک اور
آئے دن کی لوٹ مار سے اْکتائے بھٹی، راجپوت اور جاٹ یہاں کی آزادی کے متوالے ساندل
بھٹی کی قیادت میں سلطنتِ دہلی سے آزادی کا اعلان کر چکے تھے۔ یوں یہ علاقہ ساندل
بار کے نام سے مشہور ہو چکا تھا۔ یہ علاقہ
موجودہ شیخوپورہ اور حافظ آباد سے لے کر ٹوبہ ٹیک سنگھ اور جھنگ تک پھیلاہوا
تھا۔
یہ
کیسے ہو سکتا ہے کہ اکبر جیسا حکمران ہو اور اس کا ایک علاقہ اْس کی حاکمیت تسلیم
نہ کرے۔ اْس جیسے حکمرانوں کے ہاں تو آزادی کامطلب فقط بغاوت ہوتا ہے۔ اس نے تو
اپنی آنکھ کے تارے، کلیجہ کی ٹھنڈک اور لختِ جگر جہانگیر تک کی بغاوت کی کتاب کا
پہلا باب تک برداشت نہ کیا تھا اور اُسے کتاب ِ بغاوت سمیت کچل کر رکھ دیاتھا۔ وہ ظلِ سبحانی، اکبرِ
اعظم بھٹیوں کی بغاوت کیسے برداشت کرتا۔ بس اپنی تما تر قوتوں کو استعمال کرتے
ہوئے حملہ کیا، رگیدا، کچلا اور پھر ختم۔ قیدیوں کے ہجوم میں ساندل
بھٹی کی بہو اور فرید بھٹی کی بیوی گود میں ایک چھوٹے سے بچے کو اْٹھائے اکبر کے
دربار میں پیش کی گئی۔ اکبر اس بچہ کے خوبصورت چہرے پر موجود دو معصوم آنکھوں میں
جھانک کر کانپ گیا۔ اپنے وقت کاذہین ترین اور مردم شناس حکمران اکبر اْس بچہ کی
معصوم آنکھوں میں مستقبل کی ساری کہانی پڑھ کر سوچ میں پڑ گیا۔ اگر بچہ کو ماردیا
گیا تو اس علاقہ میں بسنے والے اطاعت گزار راجپوت، بھٹی اور جاٹ بھی مغلوں کی
اطاعت چھوڑ دیں گے اور اگر اس بچہ کو چھوڑاگیا تو یہ بچہ بھٹیوں میں بغاوت کی بھٹی
ہمیشہ تپائے رکھے گا، نہ خود چین لے گا نہ چین لینے دے گا۔ اس لئے اُس نے بھٹیوں
کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور انہیں یہ احساس دلانے کے لئے کہ اکبر ان کاخیر خواہ ہے
اس بچے کوزندہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
یوں اپنے وقت کا چالاک ترین بادشاہ قدرت کے ہاتھوں مات
کھاتے ہوئے دْلا بھٹی کو اپنے ساتھ محل میں لے آیا۔ حکم دیا کہ اس بچے کی اس طرح
پرورش کی جائے کہ وہ اکبر کو اپنا باپ اور بھٹیوں کو سلطنت کا باغی سمجھتے ہوئے
جوان ہو۔ یوں عبداللہ بھٹی عرف دْلا اکبر کے زیرِ سایہ محل میں اکبر کے بیٹے کے
ساتھ پرورش پانے لگا۔ جو تعلیم اکبر کے بیٹے جہانگیر کو دی جا رہی تھی وہی دُلا
بھٹی کو بھی مل رہی تھی جو آسائش اْ س کے اپنے بیٹے کو حاصل تھی وہی دْلاکو بھی
حاصل تھی۔ اکبر جانتا تھا کہ راجپوت
اور بھٹی کبھی بھی سر اٹھا سکتے ہیں اس لئے اْن کا مستقل بندوبست کرنے کے لئے
شیخوپورہ کے قلعہ کی مضبوطی کی طرف دھیان دیاگیا، علاقہ میں لوگوں کو انعام و
اکرام ومراتب سے نوازہ گیا۔ اپنے اپنے علاقوں میں امن و امان اور مغلیہ وفاداری کو
یقینی بنانے کی شرط پر علاقہ کی زمینیں امرا اور جا گیر داروں میں بانٹ دی گئیں۔
سالہا سال گذر گئے اور بھٹیوں کے دماغ سے
بغاوتوں کے آثار اور خیالات بھی ماند پڑ گئے۔دْلا جب جوان ہوا تو اْ س کی
خوبصورتی، جوانی اور جسم کی مضبوتی دیکھ کر لوگ اش اش کر اْٹھتے۔ علم کا میدان
ہوتا تو دْلا ایسے دلائل دیتا کہ لوگوں کی زبانیں بند ہو جاتیں، تلوار چلاتا تو
لوگ سکتے میں آجاتے اور نیزہ پھینکتا تو نشانہ دیکھ کر لوگ گنگ ہوجاتے۔
پھر وہ وقت بھی آ گیا جب دلا بھٹی پہلی دفعہ اپنے گاؤں
گیا۔ قبیلہ کے لوگ اُسے دیکھ کر خود پر فخر کرنے لگے، بڑے بزرگ اْس میں اْس کے باپ
دادا کو تلاش کرنے لگے، چنچل مٹیاریں اْسی کو اپنے خوابوں کا شہزادہ سمجھنے لگیں،
بڑی بوڑھیاں دیکھتیں تو بے ساختہ بین
ڈالنے لگتیں،
”ہائے! ساندل بھٹی کا پوتا اور فرید بھٹی کا
بیٹااپنے باپ پر گیا ہے شین جوان۔۔۔ کیسا اندھیر ہے سامنے ہوتے ہوئے بھی باپ کے
قاتلوں کو نہیں پہچانتا۔“
کہا جاتا ہے کہ نشانہ بازی کرتے ہوئے ایک لڑکی کاگھڑا
ٹوٹ گیا تو اْس نے طنز اًکہا،
”
اگر تمہیں اپنے نشانہ پر اتنا ہی مان ہے تو اپنا نشانہ اپنے باپ دادا کے قاتلوں پر
کیوں نہیں آزماتے۔ اتنے بڑ ے سو رما ہو تو جا، جا کر اپنے باپ دادا کے قاتل کا سر
کاٹ۔“
یہ
تو اللہ ہی جانتا ہے کہ دْلے پر کس کا اثر ہوااْس لڑکی کے طنزکا یا کسی بوڑھی اماں
کی ہمدردی کا یاپھر دْلے کی ماں کے سینے میں برسہا برس کی دبی انتقام کی آگ کا جو
اْس نے اپنے بیٹے کے اندر یہ کہہ کرمنتقل کر دی۔
تیرا ساندل دادا ماریا، دتا بھورے وچ پا مغلاں
پْٹھیاں کھلاں لاہ کے بھریاں نال ہوامغلاں
ترجمہ: مغلوں
نے تمہارے دادا ساندل کو قتل کرنے کے بعد لاش تہہ خانے میں ڈال دی اور ہمارے
عزیزوں کی لاشوں کی کھالیں اتار کر ان میں ہوا بھر دی۔
ماں کی یہ ایک ہوک ہی غیرت مند دُلے کے لئے کافی تھی۔ بہر حال وجہ جو بھی
بنی عبداللہ بھٹی عرف دْلا نے اپنے باپ دادا کے راستے پر چلتے ہوئے اکبر کے خلاف
علمِ بغاوت
بلند کردیا۔
دُلا
بھٹی کے نام کی دو وجہیں بتائی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ عبدا للہ نام بگڑ کر دلا بن
گیا، دوسری یہ کہ بھٹیوں نے اْسے بھٹیوں کا دولہا کہا جو وقت کے ساتھ ساتھ بگڑ کر
دْلا بن گیا۔
بہر
حال علاقے کے راجپوت اور جاٹ قبائل تو اس دن کے انتظار میں تھے جب انہیں کوئی
بہادر رہنما ملے، فوراً دْلے کے جھنڈے تلے جمع ہو گئے۔ دْلا بھٹی اور اس کے ساتھی مغل
امرا سے دولت لوٹ کر غریبوں میں بانٹتے، بے سہاراجوان بچیوں کی شادیاں کرواتے، جہاں
کہیں کسی عورت پر ظلم زیادتی کی اطلاع پاتے وہیں
پہنچ جاتے اور ظالم کی گردن مار کر مظلوم کی دادا رسی کرتے۔ یوں ایک باغی ابنِ
باغی، ایک جنگجو اور آزادی کا متوالا اپنے عہد کی عوام الناس کا ہیرو بن گیا۔
کہا
جاتا ہے کہ اْ س نے پہلی اور آخری بار پنجاب میں
’ لوک راج ‘ قائم کیا۔ پنجاب میں
اْسے وہی حیثیت حاصل تھی جویورپ میں روبن ہوڈ کو حاصل تھی۔
سلطنتِ دہلی کاباغی اور پنجاب کے ایک بڑے حصے کا
مسیحا دْلا بھٹی مقامی لوگوں کے گیتوں اور ماؤں کی لوریوں میں چپکے سے سرایت کر
گیا۔ اس کے نعرے اور جنگی گیت جنہیں
‘وار‘
کہا جاتا تھاپنجاب کی پکڈنڈیوں اور کھیتوں میں سنائی دینے لگے۔ شاعروں نے
اس کے کارناموں کو شاعری کی زینت بنانا شروع کر دیا اور یہ گیت پنجاب کی گلی گلی
میں گائے جانے لگے۔ علما اور صوفیا نے جن میں لاہور
کے بزرگ صوفی مادھو لعل حسین شاہ خاص طور شامل تھے بھی دْلا بھٹی کی
پذیرائی اور حمایت شروع کر دی۔
ایک
طرف عظیم ہندوستان کا عظیم مغل شہنشاہ
اکبر۔۔۔۔۔اکبرِ اعظم اور دوسری طرف یہ چھوٹا
سا باغی۔لیکن اس باغی نے تقریباً بیس سال تک اس عظیم شہنشاہ کو ناکوں چنے چبوائے رکھے۔ پنجاب کے اس سپوت نے اکبر جیسے طاقتور بادشاہ
کو مجبور کر دیا کہ وہ دہلی چھوڑ کر لاہور آبسے اور اس بغاوت کا قلع قمع کرے۔ اکبر نے اپنی تمام
طاقتیں اور قوتیں اس باغی کا سر کچلنے میں جھونک دیں لیکن ناکام رہا۔
بادشاہ
لوگ جب ناکام ہو جاتے ہیں تو پھر ان کی سازشیں کام آتی ہیں، جھوٹ اور مکاری کا
سہارا لیا جاتا ہے۔ ایک جال بُنا جاتا ہے جس میں باغی پھنس جاتا ہے، شرائط سے انکار پر اْس باغی کا سر تن سے جدا کر
دیا جاتا ہے۔ یہی کچھ اس باغی کے ساتھ بھی
ہوا۔ لاہور میں دہلی دروازے کے باہر دُلا
بھٹی کوپھانسی کی دے دی گئی۔ شاہ حسین نے دُلے ک ی نماز جنازہ
پڑھائی اور دلابھٹی کی موت پر کہا،
یا دلبر یا مر کر پیارا
دْلے دے لعل لباں دے لارے
سْولی پر چڑھ ،لے ہلارے
آن ملیسی دلبر یارا
یا دلبر یا سر کر پیارا
ترجمہ: اے دلبر
اور پیارے۔ تیرے سامنے دْلے کے لبوں کی سْرخی جلوہ دکھا رہی ہے۔وہ سْولی پر جھول
گیا۔ یار خودبخود مل جائے گا۔
بادشاہ اور اُس کے حواریوں نے دلا بھٹی کو لاہور
کے اْس وقت کے ایک نامانوس اور شہر سے دوردراز علاقے کے ایک قبرستان میانی صاحب
میں دفن کر دیا۔ شہر
سے دور دفن کرنے کی وجہ بھی شاہ اور اس کے حواریوں کا یہی ڈر تھا کہ کہیں دلا بھٹی
کی قبر اس سے زیادہ مضبوط نہ بن جائے۔ کہیں مرا ہوا دُلا زندہ دُلےسے بھی مضبوط بن کر
نہ کھڑا ہو جائے اور کہیں مستقبل کی باغی تحریکیں دُلے کی قبر سے جذبہ ٔحریت نہ
حاصل کرسکیں۔
وقت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ کچھ وقت کے بعد میانی
صاحب کا قبرستان ایک مشہور قبرستان بن گیا۔ افسوس کہ دلا بھٹی کی شکستہ حال قبر کی
وجہ سے نہیں بلکہ برینڈ کی وجہ سے۔ امرا اپنی زندگی میں ہی قبرستانوں کے اس ’
ڈیفینس ‘ میں اپنے لئے دوگز زمین
خریدلیتے۔ یوں یہ ایک وی آئی پی قبرستان بن گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
میں نے تاریخ میں کئی دفعہ دلا بھٹی کی داستان پڑھی تھی۔ مجھے وہ ہمیشہ ایک باغی ہی دکھائی دیا لیکن جب
میں نے پنڈی بھٹیاں کے انٹر چینج کے اس ریستوران میں بیٹھ کر تاریخ کے اوراق سے
گرد اْتاری تو مجھے دْلا بھٹی آزادی کاا یک متوالا دکھائی دیا۔ جس نے پہلی اور اب
تک آخری دفعہ ایک منظم لوک راج قائم کیا۔
جس نے ساندل بار کی زرخیز زمینوں اور محنتی لوگوں کو غلامی سے نجات دلوانے کے لئے
جدوجہد کی اورپھر اپنے لہو سے اس خطے کی زمینوں کو سیراب کردیا۔
کہاجاتا ہے کہ لہو زمین کی زرخیزی کا باعث بنتا ہے۔
شاید اس علاقے کی زمینوں کی زرخیزی دُلے بھٹی اور اس کے ساتھیوں کے لہو ہی کی وجہ
سے ہے۔
یہیں سے میرے عدو کا خمیر اُٹھا تھا
زمین دیکھ کے میں تیغ بے نیام ہوا تھا
خبر نہیں ہے میرے بادشاہ کو شاید
ہزار مرتبہ آزاد یہ غلام ہوا ہے
(احمد جاوید)
میرے بیٹے نے میری توجہ میز پر رکھے برگر کی طرف دلائی تو مجھے میز پر
ایک پلیٹ میں ایک چھوٹے سے لشکر جیسے فرنچ فرائز، جری سپہ سالار نما برگر اور خلقِ
خدا جیسی، سیاہ نصیبوں جلی پیپسی کی ایک بوتل دکھائی دی۔ میں نے فرنچ فرائز کے تین
ٹکڑوں کا ایک نوالہ بنایا اور دانتوں کے سپرد کر دیا۔ جونہی میری زبان اور دانتوں
نے فرنچ فرائز کا مزا چکھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میں کسی لشکر میں موجود ہوں
اور دن بھر کی تھکن کے بعد کھانا کھا رہاہوں۔ لیکن ایک خوف نے مجھے جکڑ رکھا تھا۔
خوف اس امر کا نہیں تھاکہ آج کی جنگ میں میری جان جائے گی یا میں کسی اور معرکہ
میں جان دینے کے لئے بچوں گا یا نہیں۔ خوف
اس امر کا تھا کہ تاریخ لکھنے والا میرے ساتھ کیا سلوک کرے گا۔ مجھے
دلابھٹی کے لشکر میں بٹھائے گا یا اکبرِ اعظم کے۔
______________________
Saturday, October 29, 2016
Friday, October 14, 2016
میرا سفر نامہ پریوں کی تلاش پہلی قسط
|
میری
باتیں
|
میں اپنے اس بلاگ پر اپنے سفر نامہ ’’ پریوں کی تلاش ‘‘ کہ کچھ حصہ قسط وار پیش کر رہا ہوں۔
آپ کی توجہ ،
حوصلہ افزائی اور کومنٹس مجھے آگے بڑھنے میں مدد دیں گے۔ آپ کی بے بانگ اور مخلصانہ رائے کا
قابلِ ستائش ہوگی اور باعث معاونت ہوگی۔ جوں جوں سفرنامہ لکھا جاتا رہے گا میں پیش کرتا رہوں گا۔
اب کے
سفر ہی اور تھا‘ اور ہی کچھ سراب تھے
دشتِ طلب میں جا بجا‘ سنگِ گرانِ خواب تھے
نگلے ہوئے سوال تھے‘
اُگلے ہوئے جواب تھے
اب کے برس بہار کی‘ رُت بھی تھی اِنتظار کی
ربط کی بات اور ہے‘ ضبط کی بات اور ہے
یہ جو فشارِ خاک ہے‘ اِس میں کبھی گلاب تھے
(امجد اسلام امجد )
زندگی ایک سفر ہے اور سفر سے ہی مربوط۔ لیکن کچھ سفر
ایسے ہوتے ہیں جو روح میں اس طرح رچ
بس جاتے ہیں کہ اُن کی یادیں سرمایہ ٔ حیات کی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں۔ اس کی وجہ سفر
نہیں حاصل سفر ہوتا ہے۔ جسے پانے کے لئے
ہم کتنے ہی خواب دیکھتے ہیں اور کتنی ہی تدبیریں کرتے ہیں .تب جا کر وہ حاصلِ سفر نصیب ہوتا ہے۔
میں جس سفر کی داستان رقم کرنے جارہاہوں وہ ایک ایسا سفر ہےجس کی یادیں
حاصلِ سفر سے کہیں زیادہ سفر کی وجہ سے
میرا سرمایہ ٔ حیات بن گئیں۔ اس سفر میں
نہ وقت کی قید تھی اورنہ منزلوں کا
کوئی واضح تعین۔ سفر کے دوران کسی
بھی موڑ پر فیصلہ کیا اور راہِ سفر بدل
لی۔ اس سفر کے یادگار ہونے کی ایک وجہ
یہ بھی تھی کہ میں نےاپنے بچوں کے
ساتھ اس سفر کے خواب دیکھے تھے اور پھر اس
خواب کی تعبیر پانے کے لئے کتنا ہی انتظار کیا
تھا۔ یوں اس سفر کے یادگار ہونے
کی ایک وجہ میرے ہم سفر بھی تھے۔
یہ ایک سفر ہی نہیں تھا بلکہ ایک
جستجو اورکھوج بھی تھا۔ یہ جستجوکسی
سوغات کے حصول کے لئے نہیں تھی
بلکہ ہر اس شے کو پانے کے لئے تھی جو اچھوتی ہویا عجیب ۔ چاہئے
تاریخ کے بوسیدہ اوراق ہوں ، یا لوگوں کےروئیے؛ اجناس اور کھانے کی چیزیں ہوں یا طرزِ رہائش وزیبائش؛ داستانیں ہوں یا کہانیاں؛ ٹوٹی پھوٹی خستہ حال دیواریں ہوں یا جدید
عمارات، صوفیوں اور مریدوں کے عقیدت بھرے قصے ہوں یا شاعروں ادیبوں کی باتیں۔ بس
جو ملا جھولی میں ڈال لیا ۔
اس سفر کو قلمبند کرنے کی دو وجوہات ہیں ۔ پہلی تو یہ کہ
جب میں نے بے گھری اور سفر کی اتنی صعوبت اُٹھائی ہے اور
انواع واقسام کی معلومات سے جھولی
بھری ہے تو پھر اُ سے دوسروں تک کیوں نہ
پہنچایا جائے۔ دوسری وجہ ایک واقعہ تھا
جو جھیل سیف الملوک پر پیش آیا جس نے مجھے مجبور کیاکہ میں یہ سفر
ضرور قلمبند کروں۔
یہ وہ سفر ہے جس نے مجھے پنجابی
ادب کے مطالعہ کی جستجو کی نعمت عطا کی اور مین نے داستان سیف الملوک کا خاص طور پر مطالعہ کیا۔ یہ سفر نامہ سفرنامہ کے اسلوبی معیار پر
کتنا پورا اترتا ہے یہ تو میں نہیں جانتا
لیکن میں اتنا ہی کہوں گا۔ کہ مسافر ان
جانی راہوں سے مواد اٹھاتا ہے اور اُسے لفظوں کا روپ دے کر اور بنا کر
سنوار کر اپنے قاری کے سامنے پیش کر دیتا ہے۔
میں نے کوشش کی ہے کہ میں اپنے قاری کو سچ کی بھی دعوت دوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگرہمارا معاشرہ سوچنا
شروع کر دے تو ہمارے بہت سے مسائل حل ہو
جائیں گے۔
میں کوئی پیشہ ور لکھاری نہیں ہوں لیکن اندر کسی گزری صدی کا کوئی
لکھاری ضرور موجود ہے جو وادیوں ا ور
جھرنوں کے مناظر اپنے قاری کی خدمت میں
پیش کر دیتا ہے۔ میری یہ پیش کش سفرنامے
کے معیار کتنی پوری اترتی ہے یا نہیں مجھے
اس سے کوئی خاص غرض نہیں ۔ روایت شکنی کی عادت کی وجہ سے روایت
شکنی کی گستاخی کرتا رہتا
ہوں۔ میرے خیال میں یہی ادب کی خدمت ہے کہ
اسے یکسانیت اور ٹہراؤ سے نکالا جائے۔ یہی
وجہ ہے کہ میں نے اپنے افسانوں میں بھی حسبِ ضرورت اشعار بیان کئے ہیں یہ تو ایک سفرنامہ ہے۔ کیونکہ میں یہ سمجھتا
ہوں جہاں فلسفیانہ باتیں سفر نامہ کا حصہ
ہیں وہیں شعر بھی ۔ کیوں کہ شعر بھی تو
باتیں ہی ہیں فرق فقط یہ ہے کہ یہ باتیں
پا بند ہیں۔ میری اس سوچ سے اختلاف کا ہر کسی کو حق ہے۔ اس لئے اختلافِ رائے کا استقبال کرتا ہوں۔ میری بد قسمتی ہے کہ میں کتب بینی کے قحط کے دور میں پیدا ہوا۔ آج ادبی کاوش ایک دو سطروں تک سکڑ کے رہ گئی ہے
۔لیکن میں کیا کروں کیا دو تین سطروں کا سفر نامہ لکھ کر کتب بینی کے زوال میں اپنا حصہ ڈال دوں یا کوشش
کرتا رہوں چلو سو نہیں تو دس ہی سہی
جو اسے پڑھیں گے۔
ہم اگر
دل نہ جلائیں تو ضیا کیسے ہو
میں علی گڑھ پبلشرز کا شکر گزار ہوں کہ انہوں
نے مجھے ان سنگلاخ وادیوں کا راستہ
دکھایا۔ ناصرف یہ بلکہ مجھے اپنے الفاظ کی قدر بھی سکھائی ۔ ’’
خوشبو کو کسی سند کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ وہ گھروں کے
دروازے کھٹکھٹاتی پھرتی ہے وہ پھیلنے کے لئے ہوتی ہے اور پھیل جاتی ہے۔‘‘
فیس
بک پر اپنے پڑھنے والوں کا شکریہ کہ جنہوں
نےمیرے سفرنامہ کے حصوں کا حوالہ دے کر حوصلہ افزائی کی اور ان کا بھی کہ جنہوں نے
بغیر پڑھے لائک کر کے حوصلہ افزائی کی۔ اردو
نامہ وہ ویب سائٹ ہے جس کے ذریعے میں اپنے
سفرنامے اور افسانے کو فیس بک سے باہر لے کر گیا۔ اگرچہ میں نے اس ویب
سائیٹ پر بے وزن شاعری کے علاوہ کبھی کچھ
بھی عطیہ نہیں کیالیکن پھر بھی انہوں نے
میرے کام کو ویب سائیٹ پر ناصرف جگہ دی بلکہ اپنی
قیمتی رائے بھی نوازتے رہے۔ اُن کا شکریہ کہ انہوں نے سفرنامہ کی پہلی قسط پر ہی سفرنامہ کو اپنے میں پیج پر جگہ دی۔ خاص طور پر اشفاق صاحب کا
ذکر تو ضرور کروں گاجو رائے دے کر
ہمیشہ یہ شعر بھی لکھ دیتے ۔
ممکن
نہیں ہے مجھ سے یہ طرزِمنافقت
اے دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
اے دنیا تیرے مزاج کا بندہ نہیں ہوں میں
ایک
اور احسان وہ یہ کرتے کہ جب میں کچھ نہ لکھتا تو وہ ’ پیارے وارث
‘ کہہ کر میری تو جہ اس کام کی طرف بھی دلاتے۔ میں ان سب احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے
افسانہ کو سرراہا اور میری حوصلہ افزائی
کی۔
آخر میں میں اپنی ایک عدد زوجہ اور دو عدد
صاحبزادوں کا شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے میرے ساتھ اردو اور انگریزی دونوں کا سفر کیا، جہاں میں
لے جاتا رہا جاتے رہے ، مجھے مشورے بھی
دیتے رہے ، اور کم خرچ بالا نشینی کے
فلسفہ پر عمل بھی کرتے رہے، میرے کام کو
سراہتے رہے ، مجھے لکھنے کا شوق پورا کرنے
کے لئے اُ کساتے رہے، ناصرف وہ اس کام میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ انہوں نے مجھے بہت سے کاموں سے فراغت بھی بخشی۔
یہ حقیقت ہے کہ گھر کے افراد کے تعاون اور گھر میں سکون کے بغیر میرے جیسا
کوئی بھی شخص کوئی بھی تخلیقی کام نہیں کر سکتا۔ یہاں میں
اپنے ڈرائیور عابد کا شکریہ ضرور ادا کروں گا ۔ جو مجھے بھائیوں کی طرح
عزیز ہیں۔ یہی وہ واحد شخصیت ہے جو میری کاوش کے تیشے کے نیچے رضاکارانہ سر رکھتے
رہیں ہیں ۔ لگن ، فکر اور جستجو ان کا
خاصا ہے۔ سوائے ایک سفر کے بیشتر سفر میں
وہ ہمارے ساتھ رہے۔ اُن کے پنجابی شاعری
اور ان کے علم کا میں ہمیشہ معتقد رہا ہوں۔ اگرچہ کتب بینی کے قحط کاعہد ہے لیکن پھر بھی ہم
اردو ادب کے ماتھے سے گرد صاف کرنے کا
فریضہ سر انجام دیتے رہیں گے۔
اس سفر نامہ کے بعد انشا اللہ جلد ہی اگلا سفر نامہ بھی کتابی شکل میں سامنے آنے والا ہے۔
مجھے
یقینِ کامل ہے کہ آپ اس
سفرنامہ کو پڑھتے ہوئے مایوس نہیں ہوں گے۔
مجھے یقین ِ واثق ہے کہ آنے والے دور کا نقاد اسے سراہے گا اور
تاریخ کا طالب علم داد دئے بغیر نہیں رہے گا۔
انشااللہ
_______________________________________________________________________________
|
۱۔ پہلی اور آخری درس گاہ
نانی یا ایک پری
|
خبرِ
تحیرِ عشق سُن، نہ جنوں رہا ، نہ پری رہی
نہ تو تُو رہا،
نہ تو میں رہا، جورہی سو بے خبری
رہی
بات بھی عجیب ہوتی ہے،کبھی ہوتی ہی نہیں جب ہو جائے تو
پہاڑوں سے گرتا ہو ا جھرنا بن جاتی ہے۔۔۔ نہ ختم ہونے والا جھرنا۔ ختم ہو کر بھی
کسی دریا یا کسی سمندر کے اندر اتر جانے والا
جھرنا۔ سمندر میں اتر کر بھی چین
نہیں پاتی بارش بن جاتی ہے۔۔۔۔۔ بارش بن
کر بھی اسے سکون نہیں ملتا دھرتی مین اتر جاتی ہے۔۔۔۔۔ پھر کوئی نیا روپ دھار کر
سامنے آجاتی ہے۔۔۔۔۔
یہ بات بڑی عجیب ہوتی ہے۔ ۔۔کبھی
کسی سینے پر یوں گرتی ہے جیسے زمین پر کیمیکل زدہ بارش اور کبھی کسی حسینہ کے لبوں کی مسکراہٹ بن کر اندر ایک انجانی سی کھلبلی مچا دیتی
ہے۔ یہ
بات بڑی عجیب ہوتی ہے ۔۔۔کبھی نئے گھر
بسانے کا سبب بن جاتی ہے اور کبھی بسے بسائے گھر اُجاڑ نے کی
وجہ بن جاتی ہے۔ یہ بات بڑی
عجیب ہوتی ہے بڑھتے بڑھتے باتیں بن
جاتی ہیں۔۔۔ پھر کوئی ذی فہم انہیں کہانی کا نام دے دیتا ہے۔ نہ باتیں ختم ہو تی ہیں نہ کہانیاں ،
نہ باتوں کی قدر کم ہوتی ہے اور نہ
ہی کہانیوں کی افادیت میں کمی آتی ہے ۔ کہانیوں سے کہانیاں بنتی رہتی ہیں اور باتوں سے
باتیں ۔ یوں یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
میں جب
بھی کسی بات کی بات کر نا چاہتا ہوں تو
اُس کی کوئی نہ کوئی کڑی میری نانی اماں کی باتوں
سے جا ملتی ہے۔
سرِ شام ہی ہمارے گھر کے درو
دیوار میں ان کی بھاری اور سحر
انگیز، دیوتاؤں جیسی آواز گونج اُٹھتی ، ’’
بچو! جلدی کرو کھانا کھا لو ، بستر میں
آجاؤ اورپھر میں تمہیں ایک نئے دیس کی بات
سناؤں گی۔ ‘‘ بس اس نئی بات کے چکر میں ہم کھانا بھی کھا لیتے
اور وقت پر بستر میں بھی گھس جاتے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ ہماری ماں کو ہوتا جو چیخنے چلانے
کے کرب سے بچ جاتیں۔
میری نانی انبالہ کی تھیں چنانچہ انبالہ اُن کی
باتوں ، لباس ، مسکراہٹوں اور آہوں میں
یوںرچا بساتھا جس طرح دودھ میں شکر ۔ کبھی
ہم دودھ کے لالچ میں شکر کھا لیتے اور کبھی شکر کے لالچ میں دودھ پی لیتے۔
اُن کی باتوں میں ایک نہر ضرور
ہوتی تھی جسے وہ ندی کہتی تھیں ۔ وہ اکثر
بتایا کرتی تھیں کہ اُن کے انبالہ والے گھر کے قریب سے ایک ندی گذرتی تھی جسے لوگ بڈھی کہتے تھے۔ ہم ان سے سوال کرتے، ’’ اماں یہ بڈھی کیا ہوتی ہے ۔‘‘ وہ جواب دیتیں ، ’’ جیسے تمہاری اماں بڈھی، جیسے تمہارے
ابا بڈھے۔ ‘‘
ہم سب بیک زبان بولتے، ’’
نہیں اماں۔ ‘‘ ایک دن ہمارے ابا جی نے یہ
بتا کراس جھگڑے کو ہمیشہ کے لئے ختم کر
دیا کہ لاہور میں بھی ایک بڈھا دریا ہے ۔ جو دریا سوکھ جاتا ہے اُسے
بڈھا دریا کہا جاتا ہے۔ اُس دن سے ہم ہر کمزور اور سوکھی ہوئی شے کو
بڈھا سمجھنے لگے۔
نانی اماں جب پریوں کی کہانیاں سناتیں
تو مجھے تو اُن پر ایک پری ہونے کا گمان ہوتا اور میں سوچتا کہ
نانی اماں بھی کسی دیس کی پری ہی ہوں گی
جنہیں کسی جن نے نانی اماں بنا دیا۔ بھلا اتنی کہانیاں کوئی نانی اماں کیسے
یاد رکھ سکتی ہیں اور تو اور انہیں ہماری ہر شرارت اور مستی کا پہلے سے ہی علم
ہوتا ہے۔ بھلا ایک نانی اماں ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔
_________________________
|
پراسرار بوری اور خوفناک سوٹ کیس
|
نا جانے اللہ کے ہاں اس میں کیا مصلحت تھی کہ عین جوانی میں ہماری
چاند جیسی نانی اماں کی دودھ جیسی سفید
چادر پر بیوگی کا داغ لگ گیا اور کچھ ہی
عرصہ بعد مالکِ کائنات نے اُن سے دیکھنے کی صلاحیت بھی واپس لے لی۔لیکن بیوگی
اور اندھیرے ان کی علم سے محبت کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔
نانی ہمارے ماموں کے پاس شور کوٹ میں رہتی تھیں لیکن ان کا
زیادہ وقت ہمارے ساتھ گزرتا ۔ ہم ابا جی
کی سرکاری ملازمت کی وجہ سے شہر شہر پھرتے
رہتے۔ ہم جہاں بھی جاتے، جہاں بھی رہتے
نانی ہمارے پاس پہنچ جایا کرتی تھیں۔ یہاں تک
کہ بلوچستان کے دوردراز علاقوں ، لورالائی ، خضدار اور مستونگ تک نانی بغیر کسی
خوف و خطر سفر کرتی رہتیں۔ یہ اُن کا حوصلہ تھا کہ جس کے سامنے اُن کی آنکھوں کے اندھیرے شکست
کھا جاتے یاپھر ہماری محبت جو اُن کی
انگلی پکڑ کر اندھیری راہوں پر اُ ن کی
رہنمائی کرتی رہتی۔
اس نابینا عورت کے ہمراہ دو چیزیں شہر شہر گھومتی رہتیں ۔
ایک تھی ایک بوری اور دسری ایک سوٹ
کیس ۔
بوری جس میں ان کی کتابیں اور بڑی
بڑی تسبیحاں ہوا کرتی تھیں اور سوٹ کیس
میں ان کا کفن ۔ اس کے علاوہ ضرورت کی کوئی شے ان کے ہمراہ نہ
ہوتی۔ حتی ٰ کہ لباس بھی نہیں۔ وہ اپنا لباس
اپنے ساتھ نہیں رکھتیں ، جہاں جاتیں
وہیں کا لباس زیبِ تن کر لیتیں ۔ جب وہ شورکوٹ
ہوتیں تو اپنا آبائی لباس گھاگرا اور کُرتی پہنا کرتیں اور جب ہمارے پاس آتیں تو شلوار قمیض زیبِ تن کر
لیتیں ۔ نانی اماں کو کتابوں سے عشق تھا۔ اس عشق کے راستے میں نہ میلوں کے فاصلے رکاوٹ بنے اور نہ اُن کی آنکھوں کے سیاہ اندھیرے۔ نانی اماں کی قربت نے ہمیں نہ صرف کہانیوں کی
قربت بخشی بلکہ ہمیں کتابوں سے اُنس بھی
عطا کیا ۔ انہوں نےہیر رانجھااور سسی پنوں جیسی مشہور داستانیں ہمیں اس طرح سنائیں اور پڑھوائیں کہ ہمارے اندر عشق کاجراثیم ایساپیدا
ہواکہ ہم سرتاپا عشق ہو گئے۔ نانی ہمارے لئے پہلی اور آخری درس گاہ
تھیں۔ آخری اس لئے کہ
اُ ن کے علاوہ نہ ہمیں کہیں تربیت
کے وہ اوراق ملے ، نہ شفقت ، نہ اخلاص
اور نہ ہی علم ۔
کتابوں سے بھری اُن کی بوری ہمارے لئے پہلا کُتب خانہ تھی جس سے ہم نےدین اور دنیا کی تعلیم کا آغاز کیا۔ سوُٹ کیس ہمارے لئے روحانی تعلیم کے کسی مدرسہ سے کم نہ تھا۔ جس میں رکھے چھ گز کپڑے سے ہم نے یہ جانا
کہ دنیا فانی ہے، انسان کی بساط
کیا ہے، انسان کتنا بیچارہ ہے کہ
اُسے یہ تک یقین نہیں کہ وقت ِآخراُس کے تن
پر یہ چند گز لباس ہوگا بھی یا
نہیں۔ اُسے اپنے کسی کا قرب تو کیا اغیار
کی مسیحائی بھی نصیب ہو گی یا نہیں۔ اس
کی قبر کو اپنوں کی آشنا قبروں کی قربت ملےگی یا دیار ِغیر کا کوئی انجانا شہرِ خموشاں اُس کا آخری مسکن ٹہرے
گا۔ یا پھر یہ بھی نہیں۔
شورکوٹ سے پاکستان کے کسی بھی علاقہ میں اکیلے پہنچ جانے والی اس نابینا عورت نے
۱۹۸۳ میں اپنے حوصلے ہار دئیے ۔اور شیخوپورہ کوہمیشہ کے لئے اپنا آخری مسکن
بنا لیا۔ دنیا کے لئے توایک عورت اس جہانِ فانی سے رخصت ہوگئیں لیکن
ہمارے لئے محبت و شفقت سے بھرا علم
و عرفان کااک دبستان، ہماری پہلی اور آخری درسگاہ دو گز زمین کی قید میں چلی گئی۔ خلاصہ
یہ کہ پریوں جیسی ہماری نانی اماں انبالہ کے کسی گاؤں کے کھیتوں میں کھیلتےکھلاتے ڈولی میں بیٹھ کر شور کوٹ کے ایک گاؤں میں چلی آئیں
اور وہاں سے ٹرین میں بیٹھ
کر شیخوپورہ پہنچیں جہاں کا
ایک نگرِ خموشاں انہیں اتنا پسند آیا کہ وہ وہیں کی ہو رہیں۔
___________________________________________________________________________
|
۲۔ پریوں کی تلاش میں
|
نانی کی کہانیوںمیں ایک کہانی تھی ’ سفر
العشق ’ سیف الملوک ‘ ۔ ہماری اکثر
داستانوں کی طرح یہ داستان بھی ایک
شہزادہ اور ایک پری کے عشق کی ایک منظوم
داستان ہے۔ اس کے شاعر
ہیں میاں محمد بخش ۔ سیف
الملوک ایک داستان ہی نہیں ہے بلکہ ہر
خاص و عام کے لئے دبستانِ علم سے کم نہیں۔ اس کے انتہائی شہرت کے حامل دو اشعار کا ذکر کر
کے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ آگے جا کر اس داستان پر میں نے کہنے کے لئے کافی کچھ
سنبھال رکھا ہے۔
دنیا
تے جو کم نہ آوے اوکھے سوکھے ویلے
اس بے
فیضی سنگی نالوں بہتر یار اکیلے
باغ بہاراں تے گلزاراں، بن یاراں کس کاری
یار ملن دکھ جان ہزاراں شکر کراں لکھ واری
یار ملن دکھ جان ہزاراں شکر کراں لکھ واری
ترجمہ:
دنیا میں جو دکھ سکھ میں کام نہ آئے، اس بے فیضی دوست سے بہتر ہے کہ ہم اکیلے ہی رہیں۔ دوستوں کے بغیر باغ بہار اور گلزار کا کوئی فائدہ نہیں۔ یار مل جائے تو دکھ درد دور
ہوجاتے ہیں۔ اور میں ہزارہا شکر
کرتا ہوں۔
ہمارے
لئے اس کہانی میں دو باتیں باعث کشش تھیں کہ سیف الملوک نے ملکہ خاتون کو اپنی جان پر کھیل کر ایک زور آور جن کی قید سے
نجات دلائی تھی ۔ دوسری وجہ ٔ کشش تھی جھیل سیف الملوک ۔ جس پر پریاں اترتی ہیں۔
.زندگی خود سکھاتی ہے اور
خود ہی رہنمائی کرتی ہے۔ جوں جوں زندگی کا
پودا پھلتا پھولتا گیا۔
جھیل سیف الملوک کے بارے میں معلومات اور کہانیوں میں اضافہ ہوتا گیا ۔ یوں ہمارے اندرجھیل سیف الملوک ہی نہیں اُس پر اُترنے والی پریوں کو دیکھنے کا
مقصد بھی تقویت پکڑتا
گیا۔ جب بھی کوئی دوست یا آشنا جھیل سیف الملوک کی سیر کر کے
آتا تو میں اُس سے اس جھیل سے متعلق کہانیاں بہت غور سے سنا کرتا ۔ یوں میرے دماغ کی تجوری میں تصاویر کا بے
پناہ
خزانہ جمع ہوتا گیا ۔
خزانہ موجود ہو تو صاحبِ خزانہ کیسے پڑ سکون
ہو سکتا ہے ، قرار کیسے نصیب ہو سکتا ہے۔ یہ خزانہ خود تازیانہ بن گیا اور میرے شوق کا گھوڑا آگے بڑھتا چلا
گیا لیکن افسوس منزل نصیب نہ ہوئی ۔جھیل سیف الملوک کی پریوں
سے ملاقات کا خواب حقیقت نہ بن سکا ۔ کبھی
تعلیمی مصروفیات ، کبھی روزگارِ حیات ، کبھی صحت اور کبھی کوئی اور
مسئلہ میرے
خواب کی تعبیر کے راستے میں رکاوٹ بنتا
رہا۔
بہر
حال یہ بھی حقیقت ہے کہ شوق، جذبہ
اورولولہ موجودہو تو اسباب پیدا ہو ہی جاتے ہیں ۔ جب چاہت حیات کے
پیمانہ پر ایک خاص نقطہ عبور
کرتی ہے تو خواہش ، چاہت یا خیال وجود کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی شا ید میرے ساتھ بھی ہوا۔ ایک دن میں نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا کہ ا
س سال ہم موسمِ گرما کی چھٹیوں میں جھیل
سیف الملوک ضرور جائیں گے۔ بس پھر کیا تھا
حالات بنتے گئے اور وہ دن بھی آگیاجس دن
ہم اپنی گاڑی پر اسبابِ ضروری لاد کر گھر سے نکل
پڑے۔ منزل تھی جھیل سیف
الملوک اور اس کے اردگرد پریوں کی تلاش۔
_________________________
|
شہزادی
|
جب میں مڈل اسکول میں تھا
تو میرے بہت سے دوستوںمیں سے ایک دوست اشتیاق بھی ہوا کرتا تھا۔ اللہ اُسے زندگی دے، اُس کے
ابا کا موٹر سائیکلوں کا شو روم تھا۔ جب
بھی ان کے
پاس کوئی نئی گاڑی آتی تو وہ
ہمیں آ کر بتاتا، ’’
کل میں نے اسپورٹس چلائی ،کیا شہزادی گاڑی ہے۔ کل میں نے نسان چلائی کیا شہزادی
گاڑی ہے۔ ‘‘ وہ گاڑی چلاتا تھا
یا نہیں لیکن ہم
بچپن کے بھول پنے میں اس کی باتوں پر اسی طرح یقین کر لیتے جس طرح ہم
اس سانپ دکھانے والے کی باتوں پر یقین کر لیا کرتے تھے جو ہر پانچ منٹ بعد لو گوں
کویہ نوید سناتا تھا کہ کچھ
ہی دیر
میں انہیں سنہری سانپ کی دید کا موقع ملے گا۔ اس دوران وہ اپنی
ادویات کے فائدے گنواتا رہتا ۔
اُس وقت ہمیں ان ادویات کی اہمیت و افادیت کا کچھ خاص اندازہ نہ ہوتا
تاہم بہت سے سوالات
ہمارے دماغ میں کھلبلی مچاتے رہتے۔ اشتیا ق سچ کہتا تھا یا جھوٹ لیکن یہ حقیقت ہے کہ
اُس نے ہمیں خیالوں ہی خیالوںمیں
گاڑی چلانا سکھا دیا تھا۔ اس سے
بھی
بڑھ کر یہ کہ ہمیں پریوں اورشہزادیوں کو دیکھنے کے شوق کاٹیکا بھی لگا دیا
تھا۔
یہی وجہ تھی کہ کالج کے پہلے سال
ہی ہمیں اپنے انگریزی کے سر سے یہ لیکچر سننے کو ملا کہ ان شہزادیوں
کے پیچھے مت بھاگو اپنے آپ کو اس قابل
بنا لو کہ یہ خود تمہارے پیچھے آئیں۔ سر
نے تو ٹھیک ہی کہا ہو گا لیکن نہ ہم کسی قابل ہوئے نہ شہزادیاں ہمارے پیچھے آئیں۔ میں جب بھی موٹر
وے پر پہنچتا ہوں تو مجھے اشتیاق ضرور یاد آتا ہے۔ اس سڑک پر آ کر میرے منہ سے بے ساختہ نکلتا ہے
، ’’ واہ !کیا
شہزادی سڑک ہے۔ ‘‘ اس شہزادی سڑک پر
آ کر اشتیاق کے علاوہ
مجھے دو شخص اور یاد آتے ہیں ، ایک ہمارے مہربان نواز شریف صاحب اور دوسرا شیرشاہ سوری۔
کہاجاتا ہے کہ شیرشاہ سوری نے جب
جی ٹی روڈ بنائی تو سب سے پہلے
اُسےمحفوظ
بنانے کے انتظامات کئیے ، پھراُس نے مسافروں کے لئے جائے قیام و
طعام وغیرہ کو ممکن بنایا ۔ یہی خصوصیات
ہمیں موٹر وے میں ملتی ہیں۔
جب گاڑی کے ٹائر اپنی اس میزبان کے
لبوں کو
چومتے ہیں تومسافر کو تحفظ ، امن، قانون کی حکمرانی اور خوبصورتی کے ساتھ ساتھ ایک عجیب سے اطمینان
کابھی احساس ہوتا ہے۔ مجھ جیسوں کو یہ احساس کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے جو
اپنی روزمرہ استعمال کی سڑکوں سے
اُکتائے اور بےزار ہوتے ہیں۔ بقول محترم نواز شریف موٹر وے اُ س جی ٹی روڑ پر بنائی گئی ہے
جو شیر شاہ سور ی نے بنوائی تھی۔
( غدار کون از سہیل وڑائچ)
گویا کہ موٹر وے کو بحال کیا گیا ہے۔ میری تحقیق بھی یہی کہتی ہے کہ اصل ’ گرینڈ ٹرنک روڈ ‘ یہی تھی۔ یعنی موجودہ موٹر وے۔ اندرون ملک سڑکوں اور گلیوں کاڈسا جب اس سڑک پر
آتا ہے تو اُسے کچھ دیر کے لئے یقین ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنےوطنِ عزیز کی سرزمین ِ پاک پر
موجود ہے یا دیارِ غیر میں۔ جب
یقین آتا ہے تو پھر واہ واہ کر اُٹھتا ہے، واہ کیا
پاکستانی ہیں۔۔۔۔
چاہیں تو کیمیکل ملا کر دودھ بڑھا لیں اور چاہیں تو
سنگلاخ چٹانوں کا سینہ چیر کرموٹر وےبنادیں۔
جہاں تک اس سڑک پر آنے والے مسافروں کا تعلق ہے تو انہیں دیکھ کر تو شانِ
قدرت
یاد آجاتی ہے۔ جس نے زندگی میں کبھی بھی قانون کی پاسدار ی نہ کی ہو وہ بھی یہاں آ
کر ایساپاسدارِ قانون بن جاتا ہے جیسے ابھی دودھ سے دُھل کر آیا ہو۔
میں سڑک پر
نظریں جمائے اپنی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا تھا ۔ لگتا تھا جیسے ہماری گاڑی سلیٹی رنگ کے ایک
دریا میں تیرتی جارہی ہو۔ اس
دریا کے کناروں پر اُگے ہوئے درخت ہر ساعت ایک نیا
رنگ بدل رہے تھے اور کھیت ہر موڑ پر نیا لباس زیبِ تن کررہے تھے۔ بتانے والے بتاتے
ہیں کہ اس سٹرک کی لمبائی چھ سو انہتر کلو
میٹر ہے اور یہ ایشیا کی پہلی موٹر وے ہے۔ اس
سڑک کو ایک اعزاز یہ بھی حاصل ہے کہ
اس میں کچھ ایسے خطرناک نقص ہیں جنہیں
پوری دنیا کے انجنئیرز ٹھیک نہیں
کرپائے لیکن داد طلب ہیں پاکستانی
انجنئیرز جنہوں نے اس سڑک
کو بے خطر بنارکھاہے۔ اس سڑک کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ ہنگامی حالات میں اسے جنگجو طیاروں کے رن
وے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
_________________________
|
چپس کی چر چر
|
میرے دو عدد برخورداروں، شاہ زیب اور زین نے حسبِ عادت ٹول پلازہ عبور کرتے ہی اپنی پسند کا
میوزک ’ آن ‘ کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں مجھے شک ہونے لگا کہ انہوں نے اس دفعہ بھی
ہمارے ساتھ ہاتھ کر دیا ہے۔ میوزک کی تیاری کا
کام اپنے ذمہ لے کر ’ یو ایس پی ‘ ڈرائیو میں اپنی پسند کا سارا
میوزک بھر رکھا ہے۔ اس ناانصافی کے باوجود نا جانے کیوں مجھے یقین
تھا کہ
انہوں نے ہمارا
حصہ ضرور رکھا ہوگا
چاہےآٹے میں نمک کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ اس لئیے میں اُس لمحے کا انتظار کرنے لگا جب
آٹے میں سے نمک برامد ہو۔
لیکن ہمیشہ کی طرح مجھے اس لمحے کا
بس
انتظار ہی رہا۔ اور میں بے میوزک ہی سڑک کے
کنارے درختوں کے بدلتے رنگوں کی ہیت اور ترتیب پر غور کرتا رہا۔
موٹر وے کے ارد گرد بسے دیہات ، اُن کے گھر ، گھروں میں بندھے جانور ، جانوروں کی گردنوں میں
بندھے لوہے کے زیورات، گھروں کے باہر
پھیلے سر سبز کھیت اور ان کی شادابی کسی
جادوگر کی طرح مسافر کو اپنے سحر میں قید کر لیتے ہیں ۔ یوں موٹر وے
ایک اچھی میزبان سڑک کے طور پر بھی ابھر کر سامنے آتی ہے جو اپنے
رنگ بدل بدل کر اپنے مہمان کو اکتاہٹ اور
بےزاری سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ یہ چلتے چلتےکہیں سے اونچی ہو جاتی ہے تو کہیں سے نیچی، کہیں سے چھوٹی سڑکوں پر چڑھائی کرتی ہے تو کہیں نہروں دریاؤں کو مسخر کرتی
ہے، کہیں ٹہرے پانی کی طرح ہو جاتی ہے تو کہیں بپھرے دریا کی طرح چھلانگیں
لگاتی ہے۔ اگر اس کا مہمان ذرا سی بھی
جمالیاتی حسں رکھتا ہو تو وہ اپنے دماغ کو
اس سڑک کے ارد گرد
بدلتے رنگوں سے ترو تازہ ضرورکرتا ہے۔ میری مسز فیس بک پر مصروف
تھیں۔ آج انہوں نے فیس بک کے استعمال کے
تمام ریکارڈ توڑنے کا تہیہ کر رکھا تھا۔ وہ اپنے اُن اُن دوستوں
اور رشتہ داروں کو
بھی پوسٹس بھیج رہی تھیں جنہیں کم ہی یاد کیا جاتا ہے۔ ہماری گاڑی میں
پانچویں سوار تھے عابد جنہیں گاڑی چلانے
کا اعزاز حاصل تھا۔ یعنی وہ ہاٹ سیٹ پر براجمان
تھے۔ چونکہ
باہر سورج اپنی ساری حشر سامانیوں کے ساتھ
براجمان تھا اس لئیے عابد اے سی سے اٹکھیلیوںمیں مصروف تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ
گاڑی میں بیٹھا ہر شخص اس
اے سی کے بچے سے
بھرپور فائدہ اُٹھا سکے۔ ٹشو پیپر زسے
اپنی دھوپ کی عینک کو صاف کر کے اپنی ستواں ناک پر سجانا ان کا دوسرا محبوب مشغلہ تھا۔ کبھی کبھی اپنی نشست کی ایڈجسمنٹ
بھی کرتے تاکہ
پیچھے بیٹھے بھائی جان سے سنیں ،’’ عابد میرا خیال ہے کہیں رک جائیں۔‘‘
شاہ زیب اور زین
موسیقی کے ساتھ ساتھ اس خوراک پر بھی ہاتھ صاف کرنےمیں
مصروف تھے جو انہوں نے ایک
پٹرول پمپ کی ٹک شاپ سے حاصل کی تھی۔ پیپسی کے کھلنے کی آوازوں اور چپس کے چرنے کی آوازیں
بے مزا اور بے رنگ موسیقی میں اپنا ہی رنگ
بھر رہی تھی۔ میں نے کچھ دیر کے لئے
آنکھین بند کیں تو مجھے یوں لگا جیسے میں
افریقہ کے کسی خاندان کے رئیس کی بیٹی کی تقریبِ حنا میں موجود ہوں جہاں نہ بولیاں سمجھ
آتی ہیں نہ
موسیقی، اور سچ پوچھیں تو حرکات بھی۔ پر فیومز ، کار فریشنرز کی خوشبو میں چپس اور پیپسی کی خوشبوئیں تقریبِ رسمِ حنا میں
افریقنوں کے بدنوں سے اُٹھنے والی بُو یا پھر
مقامی پرمیومز
کی بُو میں بدل گئی تھیں ۔ میں آنکھیں بند کئیے اس رسمِ حنا کے مزے لُوٹ رہا
تھا کہ اچانک دھوپ کا گولہ میری آنکھوں کے
بیرونی پردوں کو چیرتے ہوئے میری آنکھوں کی
گہرائیوں میں اُتر گیا۔ میری مسز نے اپنی طرف والی کھڑکی کی بلائینڈ
درست کرنے کی کوشش کی تھی ۔ یوں وہ
نادانستہ طور پر مجھے اس تقریبِ حنا
سے باہر لے آئیں۔ ویسے بھی وہ دل
میں
بستی ہیں ہو سکتا ہے کہ دل کا حال جان لیاہو اور بلائینڈ ہٹا نے کامقصد مجھے اُس تقریب سے نکالنا ہو۔
ایک نایاب تصویر ہو تم
میرے خوابوں کی تعبیر ہو تم
میرے روح میں شامل ہو تم
اس سفر کی منزل ہو تم
میرے دامن میں پیار ہو تم
پاک دل معصوم سا اعتبار ہو تم
میرے نظر میں میری دیوانی ہو تم
جاری ہے وارث اقبال
Subscribe to:
Posts (Atom)
فیض احمد فیض نے رومانوی شاعری کو نیا انداز دیا ہے۔ فیض احمد فیض نے اردو رومانوی شاعری کو ایک ایسی نئی جہت اور انداز دیا جس کی مثال ا...
-
پاکستان کے چند خوبصورت اور حسین پرندے پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے اتنی خوبصورتی سے نواز رکھا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتا- پاکستان...