http://teaching urdu.blogspot.com/ Urdu, waris, Urdu teaching, teaching urdu,Creativity,Urdu Teachers, Think, Language Urdu,Waris Iqbla, Urdu Blog for Urdu teachers,Urdu Teaching, Urdu Teaching Tips, Urdu with ICTاردو، اردو تدریس، وارث اقبال، پاکستان میں اردو تدریس، اردو . Teaching Urdu Language

Monday, February 22, 2021

سفرنامہ شنگریلا کی تلاش قسط ۲۳

 


سورج کسی دیوانے کی طرح برف پوش پربتوں کے ویرانوں میں بھٹکتے بھٹکتے تھک  کر   کہیں سو گیا تھا۔تاہم آسمانِ لازوال پر اُس کے ہونے کے نشان ابھی بھی باقی تھے۔

 ٹھنڈ تھی کہ سانسوں کے دریچوں سے گزر کر رگ رگ  میں سماتی تھی۔


  کالی گھٹاؤں  نے پہاڑوں کو اپنے دامن میں چھپا لیا تھا اور اُن کے سروں پر بیٹھی راج کرتی تھیں۔

’’وہ وہاں برف باری ہورہی ہے۔‘‘

ہم میں سے کسی نے کہا تھا۔

سیاہ گھٹاؤں  کی رداؤں سے نیچے سفید بادل تیرتے ہوئے نیچے کو بڑھےآتے تھے۔ جیسے محبوب کے دیدار کی لگن میں  بانکوں کے قافلے  پیا کی گلی کی طرف بھاگتے چلے  جاتے ہوں۔ شاید دریا کا کنارا اُن کی منزل تھی۔جہاں ہم کھڑے تھے۔

 دو نوکیلی پہاڑیوں کے درمیان میں لکیر سا جھرنا صدائیں بلند کرتا نیچے کو چلا آتا تھااور دریائے ہنزہ  کے سکون کا محل تاراج کرتا تھا۔

 ریت کا ایک ٹیلا اایک پہاڑی سے یوں چمٹا تھاجیسے کوئی بچہ اپنی ماں کے سینے سے چمٹا ہو۔

پہاڑی کی دہلیز پر سبز گھاس کا ایک قطعہ بچھتا جاتا تھا۔  جھرنے کی دو شاخیں سفید لکیروں کی طرح گھاس کے اس سبز قالین پر خراماں خراماں چلتی ہوئی دریا میں گرتی تھیں۔

’’ یہاں ایک بستی تھی رات کو اوپر سے پانی آیا اور پوری بستی کو بہا کر دریا میں لے گیا۔‘‘

وقار جو  پشتو گانوں میں  کھویا ہوا تھا پہاڑیوں کے نیچے پھیلے اُس سبز  میدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اچانک بولا۔

میں نے غور کیا تو چند سوکھے پودوں  کی کسمپرسی اس افتاد کی شاہد تھی۔

پہاڑوں کے پیروں میں پڑے گھاس کے اس قطعے پرایک پُراسرار اور ٹھنڈا سایہ پھیلا ہوا تھا ۔ جسے دیکھتے ہوئے   جسم جھر جھری لیتا تھا۔  وہا ں کا سکوت   چیختا تھا ، خامو شی نوح کناں تھی۔۔۔  بے بسوں کی چیخیں  پہاڑیوں سے ٹکرا  ٹکراکربین کرتی تھیں ۔ کوئی یقین ہی نہیں کر سکتا تھا کہ گھاس کے اُس ویران اور خاموش قطعے پر کچھ ماہ پہلے ایک پوری بستی موجود تھی۔

کچھ عرصہ پہلے یہاں ناریاں دریائے ہنزہ پر جھکی ہوئی  ۔۔۔۔ اپنی جوانیوں کو دریائے ہنزہ کے پانیوں میں غسل دیتی ہوں  گی۔ ایک دوسرے کو اپنی محبتوں کے قصے سناتی ہوں گی ۔۔۔۔۔۔اور پھر خوب ہنستی ہوں گی ۔چنچل ہوائیں انہیں مدھر گیت سناتے ہوئے اُن کے گالوں کے تل چومتی ہوں گی۔۔۔۔اور اتراتی ہوں گی۔

منچلے اپنے ریوڑ لئے برفوں سے اٹے مرغزاروں کی طرف بڑھتے ہوں گے۔

کوئی کسی چٹان پر بیٹھا اپنے محبوب کی راہ تکتا ہو گا۔

کوئی کسی کھڑکی سےکوٹھڑی کے اندر کود کر  کسی کو گدگداتا ہو گا۔

 اُس بھیانک رات کسی دادی یا نانی نے بچوں کو پرستان کی کہانی سنائی ہوگی۔

کسی حسینہ نے  سہانے کل کے سپنے دیکھے ہوں گے۔

مگر فنا کی آندھی سب کچھ اپنے ساتھ اُڑا کر لے  گئی اور اس  جگہ کو گھاس کے ایک ویران قطعہ میں بدل گئی۔

 ان پہاڑوں میں ایسی کتنی ہی بستیاں ہوں گی جو برفانی طوفانوں اور بھپرے پانیوں کے نذر ہوئی ہوں گی یا نشانے پر ہوں گی۔

ہم دریائے ہنزہ کے کنارے کھڑےسامنے کی پہاڑیوں پر نظریں جمائے تھے۔میں ان مناظر میں اس طرح کھویا ہوا تھاجیسے سارا لینڈ سکیپ میرے سامنے تشکیل پا رہا ہو۔ جیسے نیلے آسماں سے ملبہ اتر رہا ہو اور ہمارے سامنے منظر در منظر بنتے جاتے ہوں۔ جیسے کوئی بچہ پلیڈو سے  یہ پہاڑاور میدان تخلیق کرتا جاتا ہو۔

میں نے پہاڑوں کی چوٹیوں کو دیکھا تو ٹھنڈ  نے میری نگاہوں تک کو منجمد کر دیا۔   پہاڑوں کے اس دیس میں ہوائیں بھیگی ہوئی تھیں اور دھوپ ٹھٹھرتی  تھی ۔

  کتنے ہی گلیشئیرز راستوں کی طرح ان کے اند ر سماتے تھے۔ جیسے  یٹوپیا کا راستہ ہو یا شنگریلا کی راہگزر۔ لگتا تھا یہی وہ جگہ ہے جہاں سے شنگریلا کی بستی کو راستہ جاتا ہے۔

 انہی پہاڑی فصیلوں کے اندر ہی کہیں شنگریلا کا  معبد ہو گا، ندی ہوگی جس کے کنارے  بچے کھیلتے ہوں گے اور کلکاریاں بھرتے ہوں گے۔رنگوں کی دنیا میں حسینائیں اپنے محبوں کا انتظار کرتی ہوں گی۔ کتنے بانکے جوان کھیتوں  میں اپنا رزق تلاش کرتے ہوں گے۔

میں اپنی شنگریلا کی تلاش میں ایسے جوگی کی طرح بھٹک رہا تھا  جسے سنہری سانپ کی تلاش ہو۔

 میری شنگریلا یہیں کہیں تھی۔۔۔۔یہیں کہیں انہی پہاڑیوں کے اندر ، انہی پرفوں سے پرے۔

’’ او مائی گاڈ اٹس فئیری لینڈ۔‘‘

زین بھی اس قدرتی حسن سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔

دراصل ہر کسی نے اپنے خیالوں میں کہیں نہ کہیں کوئی شنگریلا بسائی ہوتی ہے، جونہی اُسے اُس سے ملتا جلتا کوئی منظر دکھائی دیتا ہے  تو اُس کے ذہن کے نہاں خانوں میں بسا خواب نگر حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔

پسو کونز، پسو کیتھڈرل۔۔۔یہ وہ نام ہیں جو ان چوٹیوں کو دئیے جا چکے ہیں۔عام طور پر پہاڑوں کی چوٹیاں نوکیلی نہیں ہوتیں ، وہ کوئی ڈھیریوں جیسی ہوتی ہیں مگر یہ نوکیلی تھیں جیسے کسی بچے نے اپنے آرٹ پیڈ پر بنائی ہوں۔ قدرت کے آر ٹسٹ نے  جانے کیا سوچا اور پسو کے آرٹ پیڈ پر یہ شاہکار  بنا دئیے۔۔۔۔

 یہ فطرت  کے کسی باپردہ جہاں کا ایک عظیم دروازہ تھا۔۔۔۔ پہاڑوں کی فصیلوں میں گھرا دروازہ۔ اس کے اندر رینگتا دریائے ہنزہ۔ جس کے  پُرسکون پانیوں پر  سفید ریت اس طرح پھیلی تھی کہ آرٹ کاایک نمونہ وجود میں آ گیا تھا، لہریا دار۔ سلوٹوں سے بھرے بستر کی چادر ہو جیسے۔۔۔جو رات کی ساری کہانی بتاتی ہو۔

 اس سرمئی ریت کی کوکھ سے ہنزہ کونز اٹھتی تھیں ،نکھری نکھری، دُھلی دُھلی ، ایک خاص قسم کا تقدس لئے ہوئے۔  سرمئی رنگ کے ساتھ پیلاہٹ اور کتھئی  بانکپن  لئے ہوئے ۔۔۔۔نوکیلی  اور سنہری  پھبن لئے ہوئے ۔۔۔

جیسے کسی جادوگرنی نے اپنی حنائی  زلفیں لہرائی تھیں  اور وہ وہیں پتھر کی ہو  گئی تھیں۔ پھرفطرت کے رکھوالوں نےاُن پر سفید چادر ڈال دی تھی۔ جو ذرا سا سرکتی تو حشر برپا کرتی۔۔۔۔۔۔۔۔

  یہ تہہ در تہہ تھیں ۔۔۔۔۔   قطار میں تھیں ۔۔۔۔۔ جیسے کچھ بانکی مٹیاریں تصویر  یا سلیفی بنانے کے لئے کھڑی ہوں۔ ۔۔۔۔ مگر ہر ایک دوسری سے بڑھ کر۔۔۔ حسین ۔۔۔غارت گر۔

 میں نے اپنے کیمرے کا فوکس کیا اور اُڑتے  ہوئے ان چوٹیوں کے اوپر پہنچ گیا۔ میں کس پہ رکوں، کہاں پڑاؤ کروں ، یہاں تو ہر جہت ، ہر منظر ہی دلفریب ہے، ہر گوشہ ، ہر کونہ ہی جنت نظیر ہے ۔۔۔پھر مجھے سبزے کا ایک چھوٹا سا میدان دکھتاہے جسے قدرت کے فن کار نے بنایا  اور اس پر سفید چادر ڈال دی ۔۔۔جونہی چادر کا ایک کونہ ہٹا تو وہ میرے سامنے آیا ۔۔۔یہی ہے جنت کی دہلیز ۔۔ میں نے سوچا۔۔۔۔یہیں کہیں کوئی بڑا سادروازہ ہوگا۔۔۔۔جنت کا دروازہ۔۔فردوس کا دروازہ۔۔   یہیں کہیں ہو گی میری شنگریلا جس کے میں خواب دیکھتا ہوں۔۔۔مجھ سے پہلے کئی اس کی چاہ میں کوہ نورد رہے۔۔کوئی اسے نہ پا سکا مگر نہ چاہنے والے کم ہوئےاورنہ چاہنے والوں کا عزم ٹوٹا۔ سفید دودھ جیسا گلیشئیر نیچے کو آتا تھا۔شاید وہ جنت کا راستہ تھا۔۔۔۔ میں مزید زوم کر کے کچھ تلاش کرتاتھا۔۔۔ شاید کوئی پری یا کوئی حور۔۔

 ہم سب شاہرائے ریشم کے کنارے  ہنزہ دریا سے اوپر پھیلے ہوئے پسو کونز کے حسین مناظر سے لطف اٹھا رہے تھے۔ہواؤں کی آوازیں تھیں  گویا  بہت سے کبوتر اُڑان بھرنے کے لئے اپنے پر پھڑ پھڑا رہےتھے۔ وہ ہمیں دھکیل رہی تھیں ۔۔یہاں سے ہٹنے کو کہہ  رہی تھیں  مگر  ہم میں سےکوئی بھی یہاں سے ہٹنے کو تیار نہیں تھا۔ ہر کسی  میں  جرمن  آرٹسٹ فریڈرک کیسپر کی روح سمائی ہوئی  تھی جو اس منظر کا ایک ایک گوشہ اور ایک ایک  لمحہ قید کرنا چاہتا تھا۔۔۔ محفوظ کرنا چاہتا تھاکہ باقی زندگی انہی خوبصورت یادوں کے سہارے گزرے گی۔

 سب ایک ہی طرف سے آتے ہیں اور ایک ہی طرف  کوچلے جاتے ہیں۔  کچھ ہیں جو  عملوں کی بوریاں بھر کر لے جاتے ہیں کچھ ان کے ساتھ قدرت کی خوبصورت کے خزانے بھی لے جاتے ہیں ۔ وقت سب کا ہی گزر جاتا  ہے ہنستے ہوئے یا روتے ہوئے  مگر جو وقت  فطرت کے قریب گزرتا ہے وہ  امر ہو جاتا ہے۔

فطرت کی خاموشی  ایسے ہی روح میں  اُترتی ہے جیسےسورج کی روشنی پیڑوں پر۔

 جب ہواؤں کی سیٹیاں دھیرے دھیرے چلتی ہوئی کانوں  میں اترتی ہیں تو وجود ستار کے تاروں کی طرح کانپتا ہے۔ اس لطف کو بیان نہیں کیا جاسکتا۔ نہ  اس قلبی واردات  کا نقشہ کھینچا جا سکتا ہے۔  بس مجھے اتناپتہ ہے کہ  یہاں میں سرخرو ہوجاتا ہوں ۔۔ نیا ہوجاتا ہوں۔۔۔۔شاید دوبارہ پیدا ہوجاتا ہوں ۔۔۔ میرے اندر سےوسوسوں ، لغزشوں اور میل کا سارا بوجھ   خزاں رسیدہ پتوں کی طرح جھڑ جاتا ہے۔

’’فیری لینڈ‘‘

 کسی نے کہا تھا۔

 ہاں فیری  لینڈ ۔۔ہر منظر ہی فیری لینڈ کا تھا۔۔۔۔۔ پریوں کی بستیاں کتنی۔۔۔۔۔۔ ان گنت۔

 بادلوں کی گڑ گڑاہٹ ہوئی اور دوپہر کے دو بجے ہی شام ہوگئی۔

’’ میں کہتا بھی رہا جلدی کرو مگر کسی نے ایک نہ سنی۔‘‘

 میری نگاہیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی  تھیں۔

’’  جی سرخنجراب جا کر واپس نہیں آ سکتے رات ہوجائے گی۔‘‘

وقار نےاپنی چادر سمیٹتے ہوئے  رائے دی۔

 ’’ یہ سب قصور بھائی  کا ہے یہ اٹھتا ہی نہیں۔‘‘

 زین اپنی دشمنیاں نکال رہا تھا۔ اسے تو موقع  چاہئے تھا۔

’’ سر! یا تو ہم پسو میں رک جائیں یا پھر سوست میں ۔ خنجراب نہیں جا سکتے۔‘‘

 میں نے اپنے سامنے پھیلی شاہراہ کو دیکھا۔۔۔  سامنے درختوں کا ایک جھنڈ دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔انہی میں کہیں پسو کی بستی تھی۔

’’ پھر پسو کو ہی  اپنی میزبانی کا شرف بخشا جائے۔ ‘‘

’’وقار ہوٹل تمہاری پسند کا ۔۔۔یا پھر میں دیدار سے رابطہ کروں۔‘‘

دیدار ہنزئی لاہور میں میرے  دوست ہیں جو پسو کے رہنے والے ہیں۔ جب میں ہنزہ آ رہا تھا تو انہوں نے تاکید کی تھی کہ  پسو میں رکیں اورا ن کا گھر استعمال کریں ۔  مگر میں نے انہیں یہی بتایا تھا کہ ہمارا وہاں رکنے کا ارادہ نہیں۔

’’ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے سر ادھر میرے دوست بھی ہیں ۔۔ مگر ہم ہوٹل میں رہیں گے۔۔ وہ آپ میرے پر چھوڑ دیں۔‘‘

میں مطمئن ہو کر بیٹھ گیا اور میری نگاہیں  پسو کونز کے جنت کدوں پر  جا پھیلیں۔جہاں برف کے پھول کھلے ہوئے تھے۔ اور سفید آندھیاں چلتی تھیں ۔۔۔۔برف کے سفید قلعوں کی کھڑکیوں  میں مکینوں کو تلاش کرتی تھیں ۔

Monday, October 22, 2018

پاکستان کے پرندوں کی تصاویر
















پاکستان کے چند خوبصورت اور حسین پرندے


پاکستان کے چند خوبصورت اور حسین پرندے

پاکستان کو اﷲ تعالیٰ نے اتنی خوبصورتی سے نواز رکھا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتا- پاکستان کے ساحلوں اور دیگر علاقوں میں متعدد ایسے حسین اور دلکش پرندے پائے جاتے ہیں جو دنیا بھر میں یا تو نایاب ہیں یا پھر وہاں ان کی نسلیں معدومی  (ختم ہونے کو ) کا شکار ہورہی ہیں- ایسے ہی چند رنگا رنگ اور خوبصورت پرندوں  کا  ذکر ہے ہمارے آج کے اس آرٹیکل میں-
پاکستان کو ان جادوئی پرندوں کا گھر بھی قرار دیا جاسکتا ہے-



شاہین Shaheen Falcon

شاہین کسی تعارف کا محتاج نہیں- یہ ایسا پرندہ ہے جو ہجرت نہیں کرتا اور ہمارے ملک پاکستان کے ساحلوں پر پایا جاتا ہے- یہ ایک شکاری پرندہ ہے اور اس کے پنجے انتہائی طاقتور اور تیز ہوتے ہیں جس کی مدد سے یہ اپنا شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیتا ہے-




کیمزن سن برڈ Crimson Sunbird
یہ خوبصورت پرندہ صرف پاکستان میں ہی نہیں پورے برصغیر ہندوستان میں پایا جاتا ہے- یہ پرندہ مختلف پرکشش رنگوں میں ہوتا ہے اور پھولوں کے اردگرد پایا جاتا ہے-






سلیٹی سر والی پیلے رنگ کی چڑیاGrey-Hooded Warbler
یہ پرندہ پاکستان کے جنگلات یا اس سے ملحقہ علاقوں میں پایا جاتا ہے- یہ پرندہ اپنی منفرد چہجاہٹ کی وجہ سے مشہور ہے- لیکن یہ انتہائی چھوٹا اور تیز رفتار ہوتا ہے جس کی وجہ سے اسے پکڑنا آسان نہیں-


 Red Billed Leiothrix لال چونچ والی چڑیا
یہ دلچسپ پرندہ اکثر پنجروں میں قید ہی دکھائی دیتا ہے اور یہ ایک مقبول ترین پالتو پرندہ ہے- اس ایک پرندے کے اوپر بہت سے خوبصورت رنگ دیکھے جاسکتے ہیں جبکہ یہ پرندے 6 انج تک کے سائز کے پائے جاتے ہیں-


Red Collared Doveگلابی فاختہ
یہ دلکش پرندہ پنجاب میں دکھائی دیتا ہے جہاں یہ اپنا موسمِ گرما گزارتا ہے- اس کے حیرت انگیز رنگوں کی وجہ سے اسے روشنی میں پکڑنا کسی حد تک دشوار ثابت ہوتا ہے لیکن حقیقت میں یہ ایک 
حیرت انگیز پرندہ ہے-


مونال سرخاب Monal Pheasant


یہ چمکدار رنگوں کا حامل حسین پرندہ شمالی پاکستان کے ہمالیہ سے تعلق رکھنے والے خطوں میں پایا جاتا ہے- یہ اپنے جسم پر موجود انگنت چمکدار رنگوں کی وجہ سے جانا جاتا ہے اور اسی وجہ سے اسے تمام پرندوں میں ایک نمایاں حیثیت بھی حاصل ہے-



Khalij Pheasant خھالجی سرخاب
یہ پرندہ بھی گزشتہ پرندے کی فیملی سے تعلق رکھتا ہے اور شمال میں ہمالیہ کی چوٹیوں پر پایا جاتا ہے- تاہم افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ خوبصورت پرندہ اب اپنے خاتمے کے قریب ہے اور ان کی تعداد 
بہت تھوڑی رہ گئی ہے-


Coppersmith Barbet  کوپر سمتھ
یہ پرندہ بہت بڑی تعداد میں پاکستان میں پایا جاتا ہے اور اس کی پسندیدہ غذا پھل ہیں- اس کی ٹک ٹک کی آواز کسی حد تک پریشان کن ہوتی ہے لیکن اس کی خوبصورتی سے کسی صورت انکار ممکن نہیں

روڈی  بطخ یا مرغاب
Ruddy Shelduck
اس بطخ کا تعلق افریقہ سے ہے لیکن موسمِ سرما میں یہ ہجرت کر کے پاکستان آجاتی ہے جہاں یہ 
انڈے بھی دیتی ہے- ہجرت کے دوران ان پرندوں کو جھنڈ کی صورت میں دیکھا جاسکتا ہے-



Long-tailed Minivet
یہ پرندہ اپنی لمبی دم کی وجہ سے مقبول ہے- ان پرندوں میں نر پرندہ نارنجی اور کالے رنگ کا ہوتا ہے جبکہ مادہ کا رنگ پیلا اور کالا ہوتا ہے-



درجِ بالا مواد   جماعت  میں  تدریس کی غرض سے درج ذیل ویب سائیٹ سے لیا گیا۔
http://hamariweb.com/articles/77636


Pavo cristatus
ہندوستانی مور یا طاوس ہندی (Indian peafowl) (سائنسی نام: Pavo cristatus) ایک بڑا اور چمکیلا رنگدارپرندہ ہے جو مور کی نسل سے ہے۔ 




Woodpigeoncloseup.jpgضلع اسلام آباد میں پرندوں کو تقریبا 76 کے قریب اقسام پائی جاتی ہیں۔ 


سرخاب کا شمار دنیا کے خوبصورت ترین پرندوں میں ہوتا ہے۔ دنیا میں بھر میں سرخاب کی مختلف قسمیں پائی جاتی ہے۔ جس میں سنہرا سرخاب، عام سرخاب، اور پٹے دار سرخاب بہت مشہور ہیں۔
سرخاب پاکستان کے کھیتوں اور کھلیانوں میں بکثرت پایاجاتا ہے۔ رات میں اونچے درختوں پر بسیرا کرتا ہے اور دن بھر کھیتوں اور جھاڑیوں میں اپنی خوراک تلاش کرتا ہے ۔نر سرخاب مادہ کے مقابلے زیادہ خوبصورت اوردلکش ہوتا ہے۔ سنہرے سرخاب کی وجہ شہرت سنہرے بالوں کی چوٹی کی ہے جو سرخاب کے سر سے لے کر گردن کے پچھلے حصّے تک ہوتے ہیں۔ زردی مائل بھورے رنگ کی دم سرخاب کی خوبصورتی اور لمبائی میں اضافہ کرتی ہے۔ سرخاب کے پر اپنی خوبصورتی کی وجہ سے ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔اردو زبان میں بھی سرخاب کے پروں کو تشبیہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔سرخاب کی پسندیدہ خوراک دانہ ، اناج، سنڈی اور کیڑے مکوڑے ہیں۔اگر آپ سرخاب کو دیکھنا چاہیں تو اسکے لیے بہترین وقت صبح کا ہے جب یہ واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
درجِ بالا مواد کے لئے درجِ ذیل ویب سائیٹس سے مدد لی گئی۔ 
https://www.facebook.com/Tiflee.pk/posts/pheasant
https://ur.wikipedia.org/wiki/%D8%B2%D9%85%D8%B1%DB%81:%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_%D9%BE%D8%B1%D9%86%D8%AF%DB%92


چکور کو Chukar Partridge بھی کہتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یوریشیاء میں چکور کو گیمس میں استعمال کیا جاتا ہے اور اسے وہاں کے کسان پالتے ہیں۔ اُردو میں چکور کہتے ہیں۔ یہ خوبصورت برڈ پاکستان کا قومی پرندہ ہے۔ چکور کا پہلو سفید اور سیاہ خوبصورت پروں سے ڈھکا رہتا ہے۔ اس پرندہ کے سر کے نیچے آنکھوں کے ساتھ ایک بالوں کی سیاہ پٹی رہتی ہے جو گردن، گلے کا احاطہ کرتے ہوئے دوسری جانب کی آنکھ سے جاملتی ہے۔ اس کی چونچ سرخ، چھوٹی اور مضبوط ہوتی ہے جب کہ اس کے پیروں کا رنگ بھی گاجر کے کلر کی طرح ہوتا ہے۔ یہ پرندہ ہندوستان، افغانستان، مشرق وسطیٰ، امریکہ، نیوزی لینڈ اور دیگر ممالک میں بھی پایا جاتا ہے۔
چکور پاکستان کے ساتھ کردستان کا بھی قومی پرندہ ہے۔ اسکی لمبائی کم و بیش 32 تا 35 سنٹی میٹر ہوتی ہے۔ اس کا چہرہ سفید بالوں سے ڈھکا رہتا ہے جب کہ اس کے اطراف سیاہ دھاری پٹی ہوتی ہے۔ نر اور مادّہ چکور کا سائز تقریباً مساوی ہوتا ہے، مگر مادہ کسی قدر نر سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ ان کی دُم میں 14 کے قریب پَر ہوتے ہیں۔ چک، چک، چک چکور کی آواز نکالتا ہے۔ اس لئے اس پرندہ کا نام چکور رکھا گیا
ہے۔ تیتر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے اس پرندہ کا اصل وطن ایشیاء بتایا جاتا ہے۔ غیر قانونی شکار سے اس پرندہ کی تعداد میں تیزی سے کمی دیکھی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بریڈنگ سیزن میں غیر موزوں موسم بھی اس کی نسل کی تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ نان بریڈنگ سیزن میں 10 تا 15 پرندے جھنڈ کی شکل میں رہتے ہیں۔ سرما کے موسم میں یہ پرندے وادیوں کا رُخ کرتے ہیں جہاں انھیں کھانے کے لئے کثیر تعداد میں اناج مل جاتا ہے۔ یہ پرندے دن میں بالخصوص صبح اور شام کے وقت مخصوص آواز ’چکور‘ نکالتے ہیں۔ موسم سرما میں جو ان کا بریڈنگ سیزن ہوتا ہے، نر اناج چنتا ہے۔ یہ دیکھ کر مادّہ بھی اس کے قریب آجاتی ہے اور اس کی مدد کرنے لگتی ہیں۔ نر اور مادّہ ساتھ ساتھ رہتے ہیں۔ چکور گہری پہاڑی کھائی، درختوں یا ایسے مقامات جو بڑی چٹانوں سے ڈھکے ہوں، وہاں گھونسلے بناتے ہیں۔ یہ ایک وقت میں 7 تا 14 انڈے دیتے ہیں۔ 23 تا 25 دنوں کے بعد انڈوں سے بچے نکل آتے ہیں۔ چکور اناج کے ساتھ کیڑے مکوڑے بھی کھاجاتے ہیں۔ چکور کے بچے کیڑے مکوڑے کھاتے ہیں، لیکن جب وہ بڑے ہوجائیں گے، تب وہ مختلف اقسام کے اناج، گھاس اور پتے بھی کھانے لگیں گے۔ ان پرندوں میں یہ خاص بات دیکھی گئی ہے کہ یہ صبح اور دوپہر میں ہی دانا چگتے ہیں۔


Wednesday, March 1, 2017

Penguin

پینگوئن
آ بی پرندوں میں پینگوئن کو ایک نمایاں  مقام حاصل ہے ۔ زمین کا    جنوبی حصہ ان کا اصل  گھرہے ۔  پرندوں میں پینگوئن کو مہذب  پرندہ کہا جاتا ہے ۔ ان کی ۱۷  مختلف اقسام  ہیں ۔ پینگوئن صرف نام کا ہی پرندہ ہے کیوں کہ یہ  اُڑ نہیں سکتا ۔ اس کے  پروں کی  جگہ ہاتھ  ہوتے  ہیں  جو اسے  آگےبڑھنے  میں مدد   دیتے  ہیں ۔ ۔ پینگوئن  ایک ایسا   آ  بی پرندہ  ہے  جو سال میں چھ مہینے سمندر میں   رہتا ہے ۔ پینگوئن  زبردست تیراک ہے وہ اپنی گردن ، پیروں اور بازوؤں کی مدد سے اتنی تیزی سے آگے بڑھتا ہے کہ ایک گھنٹے میں  پندرہ میل  کا  فاصلہ طے کر لیتا  ہے۔ پینگوئن کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ یہ ایک بہترین غوطہ خور بھی ہے ۔ یہ سمندر میں  ا یک ہزار   فٹ  کی گہرائی تک جا سکتا ہے اور  آ بدوز کی طرح پانی کے اندر ہی اندر تیر بھی سکتا ہے ۔ سانس لینے کےلئے یہ اپنے مضبوط بازوؤں  کے ذریعے پانی سے باہر نکلتا ہے اور اسی  رفتار  سے  دوبارہ پانی  میں چلا جاتا ہے ۔
پینگوئن سرد علاقوں میں پایا جاتا ہے  ، ۔ یہ پرندے عموما ًبرف پگھلنے کے موسم  میں کثیر تعداد میں ان علاقوں میں نظر آتے ہیں  ۔ پینگوئن سمندر میں تیر بھی  سکتے ہیں  اورخشکی پر ہوں تو سیدھے  کھڑے ہو کر  چلتے ہیں  ۔  یہ بہت سیدھے سادے اور  جلد مانوس  ہو جانے والے پرندے  ہیں۔  پینگوئن غول  کی صورت  میں اکھٹے رہتے ہیں پینگوئن  زیادہ  تر  سمندر   کے کنارے  رہتے   ہیں  البتہ   بچے  دینے کے لئے خشکی کا   رُخ بھی کرتے   ہیں ۔ خشکی   پر   یہ مختلف گھونسلے بنا کر انڈےدیتے  ہیں ۔  ماحولیاتی آلودگی کے باعث وقت گزرنے کے  ساتھ ساتھ ان کی  تعداد میں خاصی کمی  آ رہی ہے ۔  ہر  گزرتے سال کے ساتھ ان کی آبادی بیس فیصد گھٹ رہی ہے  ۔۔ پانی  کےدوسرے  پرندوں کی  نسبت ان کی عُمریں لمبی ہوتی ہیں ۔زرد رنگ والے پینگوئن کی عمر ۲۰ سال سے زیادہ ہوتی ہے۔ 
  جب پینگوئن  مائیں سمندر میں مچھلیوں کی تلاش میں نکلتی ہیں  تو اپنے بچوں  کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں  ۔ یہ سب  بچے ایک ہی  جگہ اکھٹے ہو جاتے ہیں   ۔ جب ان کی مائیں  واپس  آتی ہیں  اور بھوکے بچوں کے ہجوم  میں سے گزرتی  ہیں  تو  وہ  صرف اپنے  بچوں کو ہی خوراک دیتی   ہیں ،کسی دوسرے  کے بچوں کو نہیں ۔  سائنس دانوں  کے مطابق  پینگوئن آواز اور شکل صورت سے بھی اپنے بچے کو پہچان لیتی  ہے۔  
آپ جانتے ہیں کہ بھیڑوں کے گلوں میں سینکڑوں بچے ہوتے ہیں   اور ان سب کی شکل صورت ایک جیسی ہوتی ہے ۔ ہمارے لیے ان بچوں کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے   لیکن بھیڑیں فورا اپنے بچوں کو پہچان لیتی ہیں  بھلا کیسے۔۔۔۔۔۔؟  اس کی وجہ یہ ہے  کہ ہر بچے کی ایک خاص بو ہوتی ہے ۔  جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو بھیڑ اسے سونگھتی ہے  ۔ اس کی بو کو یاد رکھتی ہے  اور پھر اس بو کے ذریعے  اپنے بچے کی پہچان  کرتی ہے ۔ مادہ  پینگوئن بھی    اسی طرح اپنے بچوں کو فورا  پہچان لیتی ہے ۔  جب پینگوئن  مائیں سمندر میں مچھلیوں کی تلاش میں نکلتی ہیں  تو اپنے بچوں  کو پیچھے چھوڑ جاتی ہیں  ۔ یہ سب  بچے ایک ہی  جگہ اکھٹے ہو جاتے ہیں   ۔ جب ان کی مائیں  واپس  آتی ہیں  اور بھوکے بچوں کے ہجوم  میں سے گزرتی  ہیں  تو  وہ  صرف اپنے  بچوں کو ہی خوراک دیتی   ہیں ،کسی دوسرے  کے بچوں کو نہیں ۔  سائنس دانوں  کے مطابق  پینگوئن آواز اور شکل صورت سے بھی اپنے بچے کو پہچان لیتی  ہے۔  
برفانی علاقوں میں پائے جانے والے اس خوب صورت پرندے کے بارے میں  ایک انتہائی دلچسپ بات مشہور ہے کہ ایک پینگوئن باپ مسلسل  ساٹھ دن یا اس سے بھی  زیادہ  ایک ہی جگہ پرکھڑا رہتا ہے۔اس دوران وہ برفیلی  ہواؤں  کا مقابلہ  کرتا رہتا ہے  اس دوران  نہ کچھ کھاتا  پیتا ہے  اور نہ اپنی جگہ سے ہلتا ہے  ، ہے نادلچسپ بات  کہ آخر  وہ  اتنی  مشقت کیوں اٹھاتا ہے  تو  اس کا جواب  یہ ہے کہ  جب پینگوئن  مادہ انڈے دیتی ہے تو اس کے فوری بعد  پینگوئن  باپ ان انڈوں کے پاس آ جاتا ہے  اور انہیں ڈھانپ لیتا ہے تا  کہ انڈوں کو حدّت پہنچے  اور ان سے بچے نکل آئیں  ۔ مسلسل ساٹھ        دن سے زیادہ  بھوکا پیاسا  رہنے سے   پینگوئن باپ کا وزن تقریباً پچیس پاؤنڈ تک کم ہو جاتا ہے  ۔  جب ان انڈوں سے ننھے ننھے بے بی پینگوئن نکل آتے ہیں تو ان کے باپ  اپنے گلے سے  جمع شدہ  ایک  خاص قسم کی غذا نکالتے ہیں  اور اس سے بچوں کا پیٹ بھرتے ہیں  ۔  اس کے بعد پینگوئن ماں ان بچوں کی دیکھ بھال کے لیے آ جاتی ہے  اور یوں اتنے لمبے عرصے کے بعد پینگوئن باپ کو چھٹی ملتی ہے ۔
۱۹۸۳ ء میں تیل لے کر جانے والے دو سمندری  جہاز   ڈوب جانے سے  رسنے والا تیل پینگوئن   کے لیے  موت کا پیغام  لے کر آیا ۔  اس تیل میں ڈوبنے سے لاکھوں  پینگوئن  ہلاک ہو گئے ۔  ماحولیات کے ماہرین   نےجب پینگوئن  کی نسل کو ختم ہوتے دیکھا تو  وہ ہزاروں کی تعداد میں پنگوئن محفوظ مقام پر لے  گئے جہاں ان کی دیکھ بھال کی  گئی اور  جب وہ مکمل طور پر صحت یاب ہو گئے  تو ا نہیں ان کے ٹھکانوں پر واپس پہنچا دیا گیا۔  پینگوئن  کا اصل وطن انٹارکٹیکا  ہے   ۔  انٹارکٹیکا  ایک سرد اور  برفیلا  علاقہ   ہے ۔  وہاں پر برف ہی برف ہوتی ہے  اور اسی وجہ سے وہاں زندگی گزارنا  مشکل ہے  لیکن قدرت نے پینگوئن کو ان مشکل حالات میں جینے کا ہنر سکھا دیا ہے  ۔پینگوئن پانی سے برف پر آنے کے لیے  ایک لمبی  چھلانگ لگاتا ہے ۔  اس کے طاقتور  بازو اس کی مدد کرتے ہیں  اور وہ کسی راکٹ  کی طرح  برف پر آن اترتا ہے ۔    عام طور پر اس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ پینگوئن پانی کی نسبت برف  اور خشکی پر سست  رفتاری سے چلتا ہے لیکن جب وہ دوڑنا شروع کر دے تو اچھا خاصا بھاگ سکتا ہے۔




  فیض احمد فیض نے رومانوی شاعری کو نیا انداز دیا ہے۔   فیض احمد فیض نے اردو رومانوی شاعری کو ایک ایسی نئی جہت اور انداز دیا جس کی مثال ا...